یو این آئی
نئی دہلی// ہندوستان نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش میں کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے حقیقت نہیں بدلے گی۔وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے اس بارے میں میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ’’ہم نے ایسی رپورٹیں دیکھی ہیں، ایسا پہلی بار نہیں ہے کہ چین نے اس طرح کوشش کی ہے، ہم اسے یکسر مسترد کرتے ہیں‘‘۔
باگچی نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ اور لازم و ملزوم حصہ رہا ہے اور رہے گا۔ اس طرح کے ایجاد کردہ نام رکھنے کی کوششیں اس حقیقت کو نہیں بدل سکتیں۔اطلاعات کے مطابق چین نے اروناچل پردیش میں 11 مقامات کے نام تبدیل کرنے کا اعلان کیا ۔ چین نے ان 11 مقامات کی فہرست میں ان کے نام نہاد ’معیاری جغرافیائی ناموں‘‘ کی فہرست بھی جاری کی ہے۔ اس میں دو رہائشی علاقے، پانچ پہاڑی چوٹیاں، دو دریا اور دو دیگر علاقے شامل ہیں۔ چین نے فہرست کے ساتھ ایک نقشہ بھی جاری کیا ہے۔اس سے پہلے بھی چین دو بار ایسا کر چکا ہے۔ اروناچل پردیش میں چھ مقامات کے معیاری ناموں کا پہلا بیچ 2017 میں جاری کیا گیا تھا جبکہ 15 مقامات کا دوسرا بیچ 2021 میں جاری کیا گیا تھا۔چین کی وزارت برائے شہری امور کی جانب سے اتوار کو 11 مقامات کے سرکاری نام جاری کیے گئے۔