جموں// جموں وکشمیر کی سرمائی راجدھانی جموں میں جمعرات کے روز ملازمت کی مستقلی کے مطالبے کے حق میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) محکمہ کے عارضی ملازمین نے احتجاجی دھرنا دیا۔سینکڑوں کی تعداد میں پی ایچ ای کے عارضی ملازمین نے چیف انجینئر دفتر کے باہر اپنی مانگوں کو لے کر احتجاج کیا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ان کی نوکریوں کو فوری طورپر مستقل کیا جائے۔ انہوں نے بتایاکہ ہمیں آج تک یقین دہانیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ملا ‘۔انہوں نے بتایا کہ ملازمت کی مستقلی اور بروقت تنخواہوں کی واگذری کے حق میں ہم گزشتہ کئی سالوں سے احتجاجی مظاہرے کر رہیں ہیں لیکن آج تک ہمارے مطالبات کو پورا کرنے میں کسی کبھی حکومت نے سنجید دگی کا مظاہرہ نہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر حکومت ہمارے مطالبات کو پورا نہیں کرتی ہے تو ہم احتجاج میں شدت لانے کے لئے مجبور ہوجائیں گے۔ اس دوران محکمہ جل شکتی میں یومیہ اجرت کرنے والوں نے اپنے مطالبات کے حق میں اگلے 72 گھنٹوں تک مکمل قلم بند ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوںنے کہا کہ انہوں نے اگلے 72 گھنٹوں کے لیے ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ حکام ان کے مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔احتجاج کرنے والے یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں میں سے ایک نے کہا کہ “ہم نے پچھلی بار حکام کے ساتھ میٹنگ کی تھی، اور ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ ہمارے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے جس کے بعد ہم نے اپنی ہڑتال ختم کر دی” یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کا کہنا تھا کہ “وقت گزرنے کے بعد، حکام نے پچھلی بار ان کی طرف سے ہمیں دی گئی یقین دہانیوں کا کوئی جواب نہیں دیا”۔انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس اپنی ایجی ٹیشن کو تیز کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا جس کی وجہ سے ہم نے آج رات 8 بجے سے تین دن کے لیے قلم بند ہڑتال دی ہے‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت سوچتی ہے تو ہم ان پر بوجھ ہیں۔ گزشتہ 25 برسوں سے ہماری 70 ماہ کی زیر التواء تنخواہ اور پی ایف جاری کیا جائے۔ بعد میں حکومت جو چاہے مناسب فیصلہ لے سکتی ہے۔ تاہم، ہم نے مفت کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔