نیوز ڈیسک
بہار//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جمعرات کو بہار کے گوپال گنج میں سرن ڈیری پروڈیو سر کمپنی لمٹیڈ کی اِفتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِس موقعہ پر دیہی معیشت کو بہتر بنانے ، چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کی زندگی اور کوآپریٹیو زکو مضبوط بنانے میں ڈیری سیکٹر کے کردار پر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے کہا،’’ ڈیری سیکٹرنے دیہی معیشت کو مضبوط کیا ہے اور ملک کے لاکھوں چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کی معاشی حالت کو بہتر بنایاہے۔اِس شعبے نے سیلف ہیلپ گروپس کے خواتین کو بااِختیار بنایا اور وہ دیہی معیشت کو سماجی اور معاشی فوائد پہنچانے میں کلیدی کردار اَدا کر رہی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آزادی کے بعد گجرات اور بہار نے کوآپریٹیو رولیوشن کے عروج کا مشاہدہ کیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کوآپریٹیوز نے غریب اور پسماندہ طبقات کی معاشی اور سماجی ترقی کے لئے ایک مضبوط ستون کے طور پر کام کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آج ڈیری شعبہ کو آپریٹیو سوسائٹیز او رسیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے بہت زیادہ سماجی اور اِقتصادی شراکت کر رہا ہے اور دیہی دودھ تیار کرنے والوں کا متحرک ماحولیاتی نظام تیار کر رہا ہے تاکہ اہم اِقتصادی سرگرمی اور روزگار پیدا کیا جاسکے ۔اُنہوں نے ڈیری کوآپریٹیو سوسائٹیز ، سیلف ہیلپ گروپس کے ڈھانچے کے تحت غیر منظم دیہی دودھ پیدا کرنے والوں کو اِکٹھا کرنے اور انہیں بہتر روزی روٹی کمانے کا موقعہ فراہم کرنے کے لئے سرن ڈیری پروڈیو سر کمپنی لمٹیڈ کی کوششوں کی تعریف کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے خواتین سیلف ہیلپ گروپس پر زور دیا کہ وہ سماجی اور مالی طور پر بااِختیار بننے کے لئے اس اقدام میں بڑی تعداد میں شامل ہوں۔اُنہوں نے کہا کہ تمام شراکت داروں ، ڈیری یونٹوں کو ملک میں ڈیری کاروباریوں کی ایک مضبوط اور متحرک قوت بنانے کے لئے چھوٹے اور پسماندہ کسانوں ، نوجوانوں او رخواتین کی مدد کے لئے اِکٹھا ہونا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تعاون کے جذبے کو تقویت دینے کے لئے یہ ایک اہم قدم ہوگا ۔لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ دودھ کی کل پیداوار 2022ء میں 221 ملین ٹن تک پہنچ گئی تھی جو 2013ء میں 138 ملین ٹن تھی جس سے کسانوں اور اِس شعبے سے وابستہ دیگر شراکت داروں کی آمدنی میں بھی اِضافہ ہوا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اِنڈیا میں دودھ کی پیداوار کی شرح نمو 6فیصد سالانہ ہے جو دوسرے ممالک کی دودھ کی پیداوار کی شرح سے زیادہ ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کل دودھ دینے والے جانوروں کی تعداد میں بھی 6فیصد کا اِضافہ ہوا ہے جو ڈیری سیکٹر کے لئے ایک حوصلہ اَفزا علامت ہے۔