جموں//پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر وقار رسول وانی سمیت کانگریس کے کئی کارکنوں کو پیر کو اس وقت احتیاطی حراست میں لیا گیا جب انہوں نے اڈانی مسئلہ اور جموں و کشمیر انتظامیہ کی مبینہ عوام مخالف پالیسیوں پر راج بھون تک مارچ نکالنے کی کوشش کی ۔جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے پیر کے روز یہاں پراپرٹی ٹیکس کے خلاف ایک ریلی نکالی اور راج بھون کی طرف مارچ کیا۔اس ریلی میں کانگریس کے کئی بڑے لیڈروں اور درجنوں کارکنوں نے حصہ لیا انہوں نے ہاتھوں میں بینرس اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔وقار رسول وانی نے شہر کے مہاراجہ ہری سنگھ پارک کے باہر احتجاجی مارچ کی قیادت کرنے سے پہلے کہا’’ہم یہاں جمع ہوئے ہیں کہ راج بھون تک مارچ نکالیں تاکہ اڈانی گروپ کی طرف سے مالی بے ضابطگیوں اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے الزامات کی تحقیقات سے انکار کرنے پر بی جے پی کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا جا سکے۔ ’مودی-اڈانی دوستی‘ نے اس ملک کو تباہ کر دیا ہے‘‘ ۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اڈانی کو بینکوں سے قرضے دئے گئے آج وہ ڈوب رہا ہے اور اپنے ساتھ ملک کے غریب لوگوں کو بھی ڈبو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں خاص طور پر غریب پریشان ہیں کیونکہ یہاں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور آج یہ بے روزگاری کی فہرست میں اول درجے پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں گذشتہ نو برسوں سے انتخابات نہیں کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں اور پراپرٹی ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔پارٹی کے سینئر لیڈر رمن بھلہ نے میڈیا کو بتایا کہ کانگریس لیڈر شپ کا فیصلہ ہے کہ قومی سطح پر ’راج بھون چلو‘ کا نعرہ لگایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہنڈنبرگ رپورٹ نے خلاصہ کیا کہ کس طرح اڈانی زبردست مالا مال ہوا اور کس نے عوام کے پیسے کے ساتھ فراڈ کیا۔ یو این آئی جیسے ہی مارچ کرنے والے راج بھون کے راستے قریب کے وویکانند چوک پہنچے، پولیس نے مداخلت کی اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا۔ مظاہرین کو دو بسوں میں بٹھا کر قریبی پولیس تنصیب کی طرف لے جایا گیا۔