بلال فرقانی
سرینگر+جموں// تحریری امتحانات کے انعقاد کیلئے جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ (جے کے ایس ایس بی) کی جانب سے پہلے بلیک لسٹ میں شامل کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والے نوکری کے خواہشمندافراد نے بدھ کو سرینگر اور جموں میں احتجاج کیا۔حکام نے بتایا کہ مظاہرین جموں شہر کے وسط میں ڈوگرہ چوک کے باہر جمع ہوئے اور مارچ نکالنے کی کوشش کی تو پولیس حرکت میں آگئی اور ان میں سے کئی کو حراست میں لینے سے پہلے ہلکا لاٹھی چارج کیاگیا۔مظاہرین نے جے کے ایس ایس بی کے خلاف APTECH لمیٹڈ کی خدمات حاصل کرنے کے خلاف نعرے لگائے، جس کمپنی کو 2019 میں کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ کے انعقاد کے لیے بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ احتجاج کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ اپٹیک کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کا معاملہ “عدالت میں زیر سماعت” ہے۔تاہم، انہوں نے کہا، کمپنی کو مرکزی اور جموں و کشمیر حکومت کے رہنما خطوط کے مطابق رکھا گیا ہے کیونکہ اس نے پہلے ہی گزشتہ سال مئی میں بلیک لسٹ کرنے کی تین سال کی مدت مکمل کر لی ہے۔
حکام نے بتایا”جب ہم تحریری امتحان کے انعقاد کے لیے کسی کمپنی کا انتخاب کر رہے ہیں، تو ہم انتخاب میں شفافیت، جوابدہی اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے جوابدہی بھی کرتے ہیں، ہم ایک ایسے طریقہ کار پر عمل کر رہے ہیں جو بڑی قومی سطح کی بھرتی ایجنسیوں کے معیارات سے میل کھاتا ہے،” ۔ نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین نے کہا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ انتظامیہ کی جانب سے بھرتی کے عمل کو بروقت مکمل کرنے میں مبینہ ناکامی کی وجہ سے وہ عمر کی حد عبور کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے کہا، ’’وہ ایک امتحان منعقد کر رہے ہیں اور پھر اسے منسوخ کر رہے ہیں،ہمیں ایک ہی امتحان میں بار بار کتنی بار حاضر ہونا پڑتا ہے،‘‘ ۔پچھلے سال جولائی میں، جموں و کشمیر انتظامیہ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہی میں پیپر لیک اور بدعنوانی کے الزامات کے بعد 1,200 پولیس سب انسپکٹرز، 1300 جونیئر انجینئرز اور 1,000 فنانس اکاؤنٹ اسسٹنٹ (FAA) کی منتخب فہرست کو منسوخ کر دیا تھا۔سی بی آئی، جو سب انسپکٹر بھرتی گھوٹالہ کی تحقیقات کر رہی ہے، پہلے ہی اس کے ماسٹر مائنڈ، ریواڑی کے یتن یادو اور بی ایس ایف کے ایک کمانڈنٹ سمیت 24 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کر چکی ہے۔
کنٹریکٹ ختم کیا جائے
عمر ،محبوبہ ، آزاد، الطاف
یو این آئی
سرینگر// سرینگر اور جموں میں اْمیدواروں پر پولیس لاٹھی چارج کی مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایپ ٹیک کمپنی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے شوپیان میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہاکہ ایس ایس بی اْمیدواروں پر لاٹھی چارج کرکے اْنہیں گرفتار کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کا یہ قصور ہے کہ وہ ایل جی انتظامیہ سے سوال کر رہے ہیں کہ اْن کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیوں کیا جارہا ہے۔محبوبہ مفتی نے مزید بتایا کہ ایپ ٹیک کمپنی کو کس کی سفارش پر ایس ایس بی امتحانات لینے کے لئے منتخب کیا گیا اس حوالے سے تحقیقات ہونی چاہئے۔ نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہاکہ امیدواروں پر لاٹھی چارج کرکے اْنہیں پولیس اسٹیشن منتقل کرنا حد درجہ افسوسناک ہے۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کو فوری طورپر کمپنی کے کنٹریکٹ کو ختم کرنا چاہئے۔ان کے مطابق اس کمپنی کو پھر سے امتحانات کی خاطر منتخب کرنا نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے۔غلام نبی آزاد نے کہاکہ پْر امن مظاہرین پر لاٹھیاں برسانے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو اس حوالے سے جلدازجلد فیصلہ لینا چاہئے۔ اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری نے ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی کہ ایپ ٹیک کمپنی کا کنٹریکٹ فوری طورپر ختم کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ایپ ٹیک ایک بد نام زمانہ کمپنی ہے اور پورے ملک میں اس پر پابندی ہے لہٰذا ایل جی انتظامیہ اس حوالے سے فور ی طورپر فیصلہ لے۔