سید اعجاز
ترال // پدگام پورہ اونتی پورہ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ8گھنٹے تک مسلح تصادم آرائی میں2مقامی ملی ٹینٹ اور ایک فوجی ہلاک جبکہ ایک فوجی اہلکار شدید زخمی ہوا۔تصادم آرائی میں ایک رہائشی مکان کا باتھ روم تباہ ہوا۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کشمیر رینج وجے کمار نے بتایا کہ مہلوک ملی ٹینٹ کشمیری پنڈت سنجے شرما کی ہلاکت میں ملوث تھا۔ پولیس کے مطابق حفاظتی عملے کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ملی ٹینٹ اونتی پورہ کے پدگام پورہ گائوں میں چھپے بیٹھے ہیں تو پولیس، سی آر پی ایف130بٹالین اور55آر آر کیساتھ مشترکہ طورپر بستی کو درمیانی شب محاصرے میں لیا گیا اور ملی ٹینٹوں کیخلاف کارروائی شروع کی گئی۔پولیس نے کہا کہ ملی ٹینٹوں نے ایک مسجد میں گھسنے کی کوشش کی اور فرار ہونے کے تمام راستے مسدود پا کر ملی ٹینٹوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی او راس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔پولیس نے کہا کہ ایک ملی ٹینٹ مسجد کے نزدیک ہلاک ہوا جبکہ دوسرے ملی ٹینٹ نے مسجد کے عقب میں ایک مکان کے نزدیک پناہ لی۔
ابتدائی لمحات میں ملی ٹینٹوں کی فائرنگ سے 2فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں پون کمار زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا جبکہ ایک اہلکار ہیمراج بادامی باغ میں زیر علاج ہے۔پولیس نے کہا کہ رات کے دوران لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور مسجد کو کوئی نقصان نہ پہنچانے کے پیش نظر آپریشن صبح تک ملتوی کیا گیا اور منگل کی صبح دوبارہ فائرنگ کا آغاز ہوا جس کے بعد دوسرا ملی ٹینٹ بھی مارا گیا۔جھڑپ 8گھنٹے تک جاری رہی اور اس میں دو مقامی ملی ٹینٹ مارے گئے۔جن کی بعد میں شناخت عاقب مشتاق بٹ ساکن ملنگ پورہ اونتی پورہ اور اعجاز احمد بٹ ساکن سید آباد پستونہ ترال کے بطور ہوئی۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس وجے کمار نے کہاکہ عاقب مشتاق بٹ پہلے حزب کے ساتھ وابستہ تھا اور پچھلے کچھ مہینوں سے وہ ٹی آر ایف کے لے کام کر رہا تھاجبکہ اعجاز احمد بٹ جیش سے وابستہ تھا۔وجے کمار کا مزید کہنا تھا کہ عاقب نامی مہلوک ملی ٹینٹ جنوری 2021 سے سرگرم تھا جبکہ اعجاز نے مئی 2022میں ملی ٹینٹ تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔انہوں نے کہاکہ کشمیری پنڈت سنجے کمار کی ہلاکت میں ملوث ملی ٹینٹ کو دو دنوں کے اندر اندر مار گرایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ مہلوک ملی ٹینٹوں کے خلاف بہت سارے مقدمات بھی درج ہیں اور وہ سیکورٹی ایجنسیوں کو انتہائی مطلوب تھے۔لاجورہ پلوامہ میں غیر مقامی مزدوروں پر حملوں میں بھی ان کا ہاتھ رہا ہے جبکہ ترال میں ہتھیار چھیننے کے ایک واقعے میں بھی ان کے خلاف مقدمہ درج تھا۔انہوں نے کہاکہ تصادم کی جگہ اسلحہ وگولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملی ٹینٹوں کی ابتدائی فائرنگ میں دو فوجی زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک اہلکار ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا۔