جموں//اپنی پارٹی کے جنرل سکریٹری وجے بقایا نے اچھن پلوامہ میں سنجے کمار شرما کے قتل پر صدمے کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ دہشت گردوں کی طرف سے ایک اور یاد دہانی ہے کہ کشمیر میں اقلیتی ہندو ان کے ریڈار پر ہیں اور اگر وہ کشمیر میں رہتے ہیں تو ان کی جانوں کو نہیں بخشا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس مخالف ماحول میں اقلیتی ہندو کس طرح خوف کے بغیر زندگی گزار سکتے ہیں خاص طور پر وہ ملازمین جو وادی کے مختلف مقامات پر مستقل طور پر تعینات ہیں۔بقایا نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ صورتحال کا تازہ ترین جائزہ لے اور ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لیے فول پروف انتظامات کرے اور جب تک ان جرائم کے مرتکب افراد کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، انتظامیہ ملازمین اور دیگر کے خدشات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے۔ وادی میں رہنے والے اقلیتی ہندو اور ہمدردی کے ساتھ ان تک پہنچیں اور ملازمین کے دوبارہ ڈیوٹی شروع کرنے اور تنخواہوں کی ادائیگی نہ کرنے کے بارے میں سخت موقف اختیار نہ کریں اور وہاں رہنے والے دیگر اقلیتی ہندوؤں کے ارد گرد سیکورٹی میں اضافہ کریں۔اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں سردار منجیت سنگھ نے بھی کشمیری پنڈت سنجے کمار شرما کے قتل کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ کشمیری پنڈت کی ہلاکت انتہائی قابل ِ مذمت ہے ، ہمارا مطالبہ ہے کہ کشمیر میں اقلیتی طبقہ کے لئے مناسب حفاظتی انتظامات کئے جائیں۔سوگوار کنبہ سے ہمدرد ی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیاکہ حکومت کو چاہئے کہ مارے گئے شخص کے اہل خانہ میں سے کسی کو سرکاری نوکری دی جائے اور معقول معاوضہ بھی فراہم کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ امن دشمن عناصر نہیں چاہتے کہ وادی کشمیر میں امن ہو۔ ایسے حالات میں حکومت کو چاہئے کہ وہ سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنے اور ڈیفنس فورسز کے مشورے پر عملدرآمد بھی کیاجائیبیروکریسی اصلی زمینی حقائق نہیں بتارہی اور اقلیتی برادری سے وابستہ لوگوں کو غیر محفوظ حالات میں کام کرنے پر مجبور کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ کشمیر میں اقلیتی برادری کے لئے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جائے اور اْنہیں سیکورٹی فراہم کی جائے۔ معصوم لوگوں کے بہیمانہ قتل کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے سیکورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ اس قتل کے ذمہ دار دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں۔