سید اعجاز
پلوامہ // اچھن پلوامہ میں ملی ٹینٹوں نے اقلیتی فرقے سے وابستہ جموں کشمیر بینک اے ٹی ایم گارڈ کو دن دھاڑے اسپتال کے باہر گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔یہ جنوری 2022کے بعد وادی میں کشمیری پنڈتوں کی چوتھی اور مجموعی طور پر اقلیتی فرقے کی15 ہلاکت ہے۔مقامی لوگوں نے کہا کہ یہ واقعہ صبح 10بجکر 50منٹ پر اس وقت پیش آیا جب سنجے کمار شرما مین بازار سے جارہا تھا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ پلوامہ جانے والا تھا اور جب دونوں میاں بیوی مقامی ہیلتھ سینٹر کے بالکل قریب سے جارہے تھے ، تو ان پر ملی ٹینٹوں نے حملہ کیا ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے گولیوں کی آواز سنی اور وہ بھاگ گئے۔تاہم اسکے فوراً بعدکچھ لوگوں نے خون میں لت پت سنجے کو قریب ہی پرائمری ہیلتھ سینٹر پہنچایا جہاں میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا۔48سالہ سنجے شرما سمیت منز پور اچھن گائوں کے محلہ میں 3بھائی مقیم ہیں۔جن میں سے سنجے کی ہلاکت ہوئی ہے۔اسکے 3بچے ہیں جن میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔سب سے بڑے بچے کی عمر 8سال بتائی جاتی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سنجے،بھوشن لال اور اشوک کمار سمیت تین بھائی ابھی گائوں میں ہی مقیم تھے اور وہ جموں نہیں چلے گئے ۔ تاہم پچھلے سال انکا ایک بھائی دلیپ کمار، جو جموں کشمیر پولیس میں تھا، اپنے کنبے کیساتھ جموں چلا گیا جبکہ دو سال قبل ایک اور کنبہ بھی چلا گیا تھا۔سنجے شرما زیادہ تر بیمار رہتے تھے۔واضح رہے کہ جنوری 2022سے ابتک وادی کشمیر میں 31عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی جن میں 3کشمیری پنڈتوں سمیت اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے 14 افراد شامل ہیں۔یہ کشمیری پنڈتوں کی چوتھی ہلاکت ہے۔واقعہ پیش آنے کے فوراً بعد پولیس کے اعلیٰ افسران اور سیکورٹی فورسز کی بھاری تعداد اچھن گائوں میں پہنچ گئی اور ملی ٹینٹوں کو دھونڈ نکالنے کی کارروائی شروع کی۔جنوبی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس رئیس محمد بٹ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ قتل میں ملوث دہشت گردوں کا جلد ہی سراغ لگایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ پلوامہ کے علاقے اچھن میں کچھ نامعلوم بندوق برداروں نے اقلیتی برادری کے ایک رکن پر فائرنگ کی۔انکا کہنا تھا”ہم تیزی سے کام کر رہے ہیں اور تحقیقات کر رہے ہیں، ہم جلد ہی ملوث دہشت گردوں کا سراغ لگائیں گے اور انہیں بے اثر کر دیں گے، “۔
اچھن پلوامہ میں ملی ٹینٹوں کی فائرنگ | کشمیری پنڈت اے ٹہ ایم گارڈ ہلاک
