جموں// بی جے پی لیڈر غلام علی کھٹانہ کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیاہے، جس پر جموں وکشمیر کے گوجر طبقہ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔
گوجر بی جے پی لیڈر غلام علی کھٹانہ پیشے سے انجینئر ہیں اور تقریباً 14 سال سے بھارتیہ جنتاپارٹی سے وابستہ ہیں۔
جموں و کشمیر کی راجیہ سبھا میں کوئی نمائندگی نہیں تھی۔کھٹانہ کی راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی کو ایک بڑے سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
غلام علی نے صدر دروپدی مرمو کی طرف سے راجیہ سبھا کے لیے نامزدکئے جانے کے ایک دن بعد کہا ،” یہ پورے جموں و کشمیر کی جیت ہے۔ بی جے پی میں ہم عہدے کے لیے کام نہیں کرتے۔ میں نے پارٹی کے لیے بے لوث کام کیا اور پارٹی نے میری وفاداری دیکھی۔ میں پی ایم مودی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ میری جیت نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کی جیت ہے”۔
اُنہوں نے مزید کہا،”پی ایم مودی نے کہا تھا کہ جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو ہم ان لوگوں کو بااختیار بنائیں گے جن کے پاس سیاسی طاقت نہیں ہے۔ پی ایم مودی نے جو کہا وہ کر دکھایا۔ یہ صرف گجر برادری کی فتح نہیں ہے بلکہ تمام برادریوں کی فتح ہے”۔
بتا دیں کہ صدر دروپدی مرمو نے مرکزی حکومت کی سفارش پر غلام علی کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے لیے نامزد کیا۔
ہفتہ کو جاری مرکزی وزارت داخلہ کا ایک نوٹیفکیشن کے مطابق،”آئین ہند کی دفعہ 80 کی شق (I) کی ذیلی شق (a) کے ذریعے عطا کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے، آرٹیکل کی شق (3) کے مطابق، صدر نے غلام علی کو کونسل ممبر کے طور نامزد کیا ہے۔ ریاستوں کو نامزد کردہ ممبروں میں سے ایک ممبر کی سبلدوشی سے خالی اسامی کو پ±ر کیا گیاہے “۔
بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے بھی اس تقرری کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک ‘اہم قدم’ قرار دیا کیونکہ اس سے جموں وکشمیر میں رہنے والے گوجر برادری کے لوگوں کو پہچان ملی ہے۔
بتا دیں کہ غلام علی جموں کے بھٹنڈی علاقے کے رہنے والے ہیں۔ وہ بی جے پی کے ایس ٹی سیل میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور ریاستی ترجمان کا عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ ایوان بالا کے لیے ان کی نامزدگی صدر کی جانب سے حکومت کی سفارشات پر خالی اسامی کو پر کرنے کے لئے کی گئی ہے۔