ماسکو// پابندیوں کے باجود بھارت اور میانمار کے بعد اب طالبان حکومت نے بھی سستے داموں پیٹرول کی خریدنے کے لیے روس سے معاہدہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت کی وزارت تجارت کے ترجمان حبیب الرحمان حبیب کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ پیٹرول اور بینزین کی خریداری کے لیے معاہدے کی شرائط پر تقریباً اتفاق ہوچکا ہے اور معاہدے کی تکمیل جلد ممکن ہے۔طالبان حکومت کے وزارت صنعت وتجارت نے ’’رائٹرز‘‘ کو مزید بتایا کہ تیل کے علاوہ گندم اور گیس کی خریدری کے لیے بھی معاہدوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں جس کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا وفد روسی فریق کے ساتھ بات چیت کے لیے ماسکو میں موجود ہے۔افغانستان کی وزارت تجارت اور صنعت کے ترجمان حبیب الرحمان حبیب نے تصدیق کی کہ وزارت تجارت کی سربراہی میں ایک سرکاری وفد روسی دارالحکومت میں موجود ہے اور گندم، گیس اور تیل کی فراہمی کے معاہدوں کو حتمی شکل دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہا ’وہ روسی فریق کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، معاہدے کی تکمیل کے بعد تفصیلات فراہم کی جائیں گی‘۔وزیر تجارت اور صنعت کے دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ ان کی وزارت اور وزارت خزانہ کے تکنیکی عہدیداروں نے رواں ماہ وزارتی وفد کے دورے کے بعد معاہدوں پر کام کرنے کے لیے ماسکو میں قیام کیا۔انہوں نے کہا کہ ’ہم معاہدے کے متن پر کام کر رہے ہیں۔