سرینگر// وادی کے کئی تعلیمی اداروں سے فورسز کا قبضہ ہٹانے اور وہاں تعلیمی سرگرمیوں کیلئے موزون سہولیات بہم رکھے جانے کے حوالے سے مفاد عامہ کے تحت دائر عرضی کو بے وزن اور ذاتی اغراض کیلئے کی گئی کوشش قرار دے کر خارج کردیا ہے ۔عدالت عالیہ نے کہاکہ مفاد عامہ عرضی دائر کرنے اور اسکی پیروی کرنے کیلئے جو قانونی ضروریات وضع کی گئی ہیں ،عرضی گذار نے ان قواعد سے صرف نظر کیا ہے ۔جسٹس راما لنگم اور جسٹس علی محمد ماگرے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سکولوں میں سی آر پی ایف اور دیگر فورسز کمپنیوں کے قبضے کو ختم کرنے کے حوالے سے دائر مفاد عامہ عرضی کی سماعت کی ۔عرضی گذار ،جوکہ پیشے سے ازخود وکیل ہیں ،نے اس عرضی کی بنیاد مقامی اخبارکی ایک نیوز رپورٹ بنا کر عدالت عالیہ سے مداخلت کی درخواست کی تھی لیکن کئی سماعتوں کے بعد عدالت عالیہ نے اس عرضی کی اہلیت پر سوال کھڑے کئے ۔اپنے تاچرات میں ڈویژن بنچ نے کہاکہ ہر کوئی اخباری رپورٹ ،خط یا عرضی کو مفاد عامہ کے تحت زیر سماعت لانا قانون جائز ہے لیکن اسکے بھی چند قواعد وضوابط ہیں جو مذکورہ عرضی میں پورے نہیں کئے گئے ہیں ۔اپنے فیصلے میں ڈویژن بنچ نے کہاہے کہ عرضی گذار وکیل سماعت کے دوران حاضر نہیں رہے تاکہ ان سے مفاد عامہ عرضی کے قواعد وضوابط سے متعلق استفسار کئے جاسکتے ۔اپنے تاثرات کے دوران عدالت عالیہ نے کہاکہ مفاد عامہ کے تحت عرضی دائر کرنا دراصل سماجی ،معاشی ،جغرافیائی اور دیگر قسم کی ناانصافیوں کا ازالہ کرنے کیلئے کی جاسکتی ہیں لیکن زیر سماعت عرضی کو بغیر کسی تحقیق کے محض اپنی حقیر تشہیر کیلئے استعمال کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے بغیر کسی چھان بین ،لازمی دستاویز یا بااعتبار ثبوت پیش نہیں کیا گیا ۔اس موقعے پر ذاتی طور حاضر عدالت رہے ڈائریکٹر ایجوکیشن اعجاز احمد بٹ نے عدالت کو بتایا کہ عرضی گذار کی جانب سے جن اسکولوں کا ذکر کیا ہے ان میں کوئی بھی فورسز کیمپ نہیں ہے اور نہ ہی وادی کے کسی دوسرے علاقے میں کسی سرکاری اسکول میں فورس کیمپ موجود ہے ۔ناظم تعلیمات کے اس بیان کو بنیاد بنا کر عدالت عالیہ نے کہاکہ مفاد عامہ کے تحت یہ عرضی جھوٹ اور غیر صحیح ہے ۔چونکہ اس مفاد عامہ عرضی کی بنیاد محض ایک اخباری نیوز پر ہے جسے متعلقہ اتھارٹی سے کوئی تصدیق نہیں ملی ہے ،لہٰذا اسے سپریم کورٹ اور دیگر وضع کردہ قواعد پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے خارج کیا جاتا ہے ۔