جموں//ویدبھسین نہ صرف برصغیرکے ایک قدآورصحافی تھے بلکہ وہ ایک اعلیٰ پایہ کے دانشور بھی تھے۔وہ ایک ترقی پسندذہن کے مالک اور اُردوزبان وادب کے شیدائی تھے۔ انہوں نے قلم کے ذریعے پسماندہ عوام کی آواز کوبلندکر کے ایوان اقتدار تک پہنچایا ۔آنجہانی وید بھسین ہمہ گیرشخصیت کے مالک تھے اوران کی مختلف شعبہ ہائے زندگی کیلئے انجام دی گئی خدمات کو عرصہ دراز تک یادکیاجائے گا۔ ان خیالات کااظہار مقررین نے پروفیسرگیان چند جین سیمی نارہال جموں یونیورسٹی میںرساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی کے زیراہتمام ویدبھیسین کے 88 ویں یوم ِ ولادت کے موقعہ پر منعقدہ سیمینارکے دوران کیا۔ اس دوران سیمینارکی صدارت صدرشعبہ اُردواورصدررساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی پروفیسرشہاب عنایت ملک نے کی ۔اس موقعہ پرفیکلٹی ممبران، سول سوسائٹی کے ممبران ،طلباء، اسکالروں اوریونیورسٹی اساتذہ نے شرکت کی۔اس موقعہ پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی اسیرکشتواڑی نے وید بھسین کوبرصغیرکا اعلیٰ پایہ کادانشوراورقدآورصحافی قراردیا۔انہوں نے کہاکہ ویدجی نے بڑی بے باکی سے اپنے اخبار کشمیرٹائمزکے ذریعے غریب عوام کی آواز بلندکرکے مسنداقتدار پربیٹھے نمائندوں کوغفلت کی نیند سے جگایا۔انہوں نے کہاکہ ویدجی نے ہمیشہ انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کوہدف تنقیدبناتے ہوئے عام آدمی کے مفادات کیلئے جدوجہد کی۔انہوں نے کہاکہ وید جی دلی طور پر ترقی پسنداورسیکولرذہن کے مالک تھے اوروہ اپنی شخصیت کی گوناگوں صفات کی وجہ سے وہ ہردلعزیز تھے۔ڈاکٹرریاض احمد نے کہاکہ وید جی کواُردوزبان وادب سے کافی لگائو تھا اوروہ ریاست میں اُردواکیڈمی کے قیام کے خواہاں تھے ۔انہوں نے فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف بڑی بے باکی سے لکھااورہمیشہ غریب عوام کے حق میں قلم کوبھرپورانداز میں استعمال کیا۔ڈاکٹرشہنازقادری نے کہاکہ وادی کشمیرکی حقیقی صورتحال کومنظرعام پرلانے میں ویدبھیسن نے ناقابل فراموش رول اداکیا۔انہوںنے کہاکہ ویدبھسین کی عوام کے تئیں انجام دی گئی خدمات کوتادیریادرکھاجائے گا۔قبل ازیں پروفیسر شہاب عنایت ملک نے صدارتی خطاب میں وید بھسین کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں پرروشنی ڈالی۔ انہوں نے وید بھسین سنسکرت اور ہندی کے طالب علم تھے لیکن اُنہوں نے اُردو کی بہبودکیلئے پوری عمر جدوجہدکی۔انہوں نے کہاکہ وید بھسین محب اُردو تھے اوروہ اُردوادب اورشاعری کوکافی پسندکرتے تھے جس کے سبب وہ متعدد اُردو تنظیموں سے وابستہ رہے۔ ویدجی نے ریاست کی سرکاری زبان ’’اُردو‘‘ کے ساتھ سرکارکی طرف سے ہورہی ناانصافیوں کے خلاف اپنے اخبارمیں اداریے لکھ کر ایوانوں میں کھلبلی مچائی۔ پروفیسرشہاب عنایت ملک نے کہاکہ ویدجی کے ساتھ ان کے گہرے مراسم تھے اوروہ اکثر شعبہ اُردوکی تقریبات میں شامل ہوتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ویدجی نے اُردو کوفروغ دینے کیلئے گراں قدرخدمات انجام دی ہیں۔انہوں نے کہاکہ وید بھسین ایک اصول پسندشخص تھے جوہمیشہ فرقہ پرستوں کے خلاف ڈٹے رہے لیکن کبھی اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔اس موقعہ پربشیربھدرواہی، عشاق کشتواڑی اورڈاکٹرچمن لعل ودیگران نے بھی ویدبھیسن کوخراج عقیدت پیش کیا۔اس دوران سیمی نار کی نظامت ڈاکٹرفرحت شمیم نے انجام دیئے جبکہ شکریہ کی تحریک ڈاکٹرعبدالرشیدمنہاس نے انجام دی۔