بیجنگ//بھارت اور چین کے مابین سرحدی کشیدگی سے متعلق بھارت چین سے مذاکرات کیلئیتیار ہوگیا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جون میں سکم پر بھارتی فوج چینی سرحد کی حدود میں داخل ہوگئی تھی اور ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی وہیں پر موجود ہے۔ بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے کہاہے کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازع پر پوری دنیا بھارت کے ساتھ ہے۔ادھر ہند۔چین سرحدی تعطل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پینٹاگن نے سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے کے لئے دونوں ممالک کو براہ راست بات چیت کے ذریعہ مسائل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ دفاعی محکمہ کے ترجمان گرے روس نے میڈیا سے خطاب کے دورا ن ایک بیان میں کہاکہ ہم کشیدگی کم کرنے اورکسی بھی تشددآمیز پہلوؤں سے آزادی کے لئے براہ راست بات چیت کے ذریعہ مسائل حل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ہندوستان نے سکم کے ڈوکلام علاقے میں ایک سڑک کی تعمیر کرنے اور موجودہ صورتحال کو بدلنے کے لئے چین کے اقدام کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ا س سے قبل جون 2016 میںدونوں ممالک کے درمیان ایک مہینہ طویل تعطل رہا ہے۔ پینٹاگون کے اعلی کمانڈر نے اس سے قبل رواں ہفتے قانون سازوں کو بتایا کہ چین اپنے علاقائی مقاصد کے لئے اپنے اقتصادی استحکام کا استحصال کررہا ہے۔واضح رہے کہ رواںماہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اپنے دورے کے دوران برکس کی ایک میٹنگ میں شرکت کیلئے بیجنگ جائیں گے۔ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ ڈووال اپنے چینی ہم منصب سے اس معاملے پر گفتگو کرین گے۔ امریکہ ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تعطل کے بعد مسلسل دونوں ممالک پر کشیدگی کی کمی کے لئے براہ راست بات چیت پر زور دے رہا ہے۔