کیوں جابجا مرتا ہے کشمیری؟
پھر اے خدا آہ و بُکا کر تا ہے کشمیری
پھر دیکھ، کرتا ہے کوئی بھرتا ہے کشمیری
پھر امتحاں ہونے لگا ہے صبر کا اس کے
پھر آگ کے دریا سے گزرتا ہے کشمیری
پربت کی برفیلی ردا تک خون آلودہ
درویش ہے اور جنگ بھی کرتا ہے کشمیری
وارثِ لَلتا دتیہ وسلطاں شہاب کا
کِس نے کہا عفریت سے ڈرتا ہے کشمیری
جس رہنما کی روح تک گروی ہو کہیں پر
وہ کیا کہے کیوں جابجا مرتا ہے کشمیری
یہ کس نے ستی سر کو لہو رنگ کیا ہے؟
ڈوبا تو پھر مشکل سے اُبھر تا ہے کشمیری
انظرؔ چمن میں آئے گی کب تک بہار پھر؟
مدت سے اب جھاڑے میں ٹھٹھرتا ہے کشمیری
پیر حسن انظرؔ
بمنہ سرینگر،موبائل نمبر؛9419027593