سرینگر//نجی کوچنگ مراکز کے ذمہ داران نے سرکار کی طرف سے سینٹروں میں10فیصد غریب بچوں کی مفت تعلیم اور تربیت سے متعلق فہرست فرہم کرنے پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ اس فہرست میں سفارشی طلاب شامل ہیں،جو مالیاتی اعتبار سے خوشحال ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ یا تو وہ18فیصد اشیاء و خدمات ٹیکس کی دائیگی کریں گے،یا10فیصد بچوں کو مفت تربیت دینگے۔ نجی تعلیمی تربیتی مراکز میں مالیاتی اعتبار سے کمزور 10فیصد طلاب کو مفت تربیت فرہم کرنے پر تنازعہ کھڑا ہوا ہے،جبکہ کوچنگ سینٹر ایسو سی ایشن نے سرکار کی فہرست کو سفارشی قرار دیا ہے۔سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران کوچنگ سینٹرس ایسو سی ایشن کے صدر جنید یوسف نے کہا کہ مالیاتی اعتبار سے مفلس،نادار،غریب اور یتیم بچوں کے علاوہ خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے10فیصد طلاب کو مفت تربیت دینے کا کوٹا متعلقہ کوچنگ سینٹروں نے پہلے ہی سیشن شروع ہونے کے ساتھ ہی پُر کیا ہے،تاہم اس کے باوجود ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن نے26دسمبر کو ایک فرمان جاری کیا،جس میں ان طلاب کی فہرست کو منظر عام پر لایا گیا،جو مختلف کوچنگ مراکز پر مفت تعلیم حاصل کرنے کے اہل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ قدم منصوبہ بند تھا،اور فہرست اس وقت جاری کی گئی،جب پہلے سے ہی کلاسزشروع ہوچکی ہیں۔جنید نے کہا کہ اس فہرست میں کافی خامیاں بھی ہیں،جبکہ اصل حقداروں کی مکمل طور پر تحقیقات بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس فہرست میں سفارشی امیدوار بھی شامل ہیں،جو مالی اعتبار سے خود کفیل ہیں۔سرکار کی طرف سے18 فیصد اشیاء و خدمات ٹیکس کو بھی کوچنگ سینٹروں کیلئے سم قاتل قرار دیتے ہوئے کوچنگ سینٹرس ایسو سی ایشن کے صدر نے کہا کہ ،انکے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آیا کوچنگ سینٹروں کو صنعت قرار دیکر18فیصد ٹیکس وصول کیا جائے،اور10 فیصد طلاب کو مفت تربیت فرہم کرنے کی پالیسی کو ختم کیا جائے،یا 10فیصد طلاب کو مفت تربیت دینے کا سلسلہ جاری رکھا جائے،اور اشیاء و خدمات ٹیکس سے انہیں مستثنیٰ رکھا جائے۔جنید یوسف نے کہا کہ ان پر دہری مار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کی طرف سے قائم کی گئی ماہرین کمیٹی کا کہنا ہے کہ استاد،طلاب تناسب150ہیں،اور اس کو کوچنگ سینٹروں پر بھی لاگو کیا جائے۔پریس کانفرنس نے دوران انہوں نے محکمہ تعلیم کے ذمہ داروں پر انہیں ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے،تسلیم شدہ اور راجسٹرڈ تربیتی مراکز کے مالکان کو ستایاجا رہا ہے،جبکہ غیر قانونی طور پر چلنے والے کوچنگ سینٹروں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔سرکاری سطح پر چلائے جانے والے سپر50 کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس پر زر کثیر خرچ کرنے بعد ماحاصل کیا ہے،جبکہ نجی کوچنگ سینٹروں کی کارکردگی سب کے سامنے ہیں۔