سوپور//شمالی قصبہ سوپور میں پُر اسرار آتشزدگی کے بعدٹریڈرس فیڈریشن کی کال پر بدھ کو قصبے کے تاجروں نے احتجاج کے بطوراپناکاروبار معطل رکھا۔فیڈریشن کے مطابق یہ ہڑتال قصبے کو شر پسند عناصر سے تحفظ فراہم کرنے میں انتظامیہ کی ناکامی کے خلاف کی گئی۔ بدھ کو قصبہ کے بیشتر بازاروں میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے ۔ہڑتال کا اثر دیگر چھوٹے بڑے تجارتی مراکز پر بھی دیکھنے کو ملا، البتہ پبلک ٹرانسپورٹ پر ہڑتال کا کوئی اثر نہیں ہوا اور ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق جاری رہی۔ہڑتال کی یہ کال قصبہ کے تاجروں کی نمائندہ انجمن ٹریڈرس فیڈریشن سوپور نے دی تھی۔ہڑتالی کال نقب زنی کے واقعات اورقصبہ کے جنرل بس اسٹینڈ میں 25 دکانوں اور ایک ریستوراں کے آگ کی ایک واردات میں خاکستر ہونے کے تناظر میں دی گئی، جس پر دکانداروں اور تاجروں نے مثبت رد عمل کا اظہار کیا اور اس کے نتیجے میں معمول کی زندگی بری طرح سے متاثر ہوئی۔ٹریڈرس فیڈریشن سوپور کے صدرحاجی محمد اشرف گنائی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ ہڑتال تاجروں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مقامی انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف احتجاج کے بطور کی گئی۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا”انتظامیہ سوپور قصبے کو شرپسند عناصر سے تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور ناکام ہوگئی ہے“۔انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ شرپسند عناصردکانوں کو لوٹ کر نذر آتش کررہے ہیں اور متعلقہ حکام قصورواروں کا پتہ لگانے کےلئے ٹھوس اقدام نہیں کررہے ہیں۔ حاجی محمد اشرف گنائی نے بتایا کہ انتظامیہ کی لاپرواہی کا خمیازہ قصبہ کے تاجروں کو مختلف مصائب اور مشکلات کی صورت میں بھگتنا پڑرہا ہے۔ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ چوری اور آتشزدگی کے واقعات کے سلسلے میں پولیس اسٹیشن سوپور میں دو الگ الگ ایف آئی آر زیر نمبرات 02/2018 اور 03/2018 درج کئے گئے ہیں۔پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ تحقیقات کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور پولیس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت جلد قصورواروں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔اس دوران ایس ایس پی سوپور نے لاپتہ صراف طارق احمد ملک کو تلاش کرنے کیلئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ٹیم کی سربراہی ایس ڈی پی او سوپور مشکور احمد کررہے ہیں جبکہ ایس ایچ او سوپور مدثر گیلانی اور دو سب انسپکٹر جاوید احمد وسجاد احمدشامل ہونگے۔ (مشمولات کے ایم این)