سرینگر //پولیس نے جموں میں نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز ایسوسی ایشن کا سیکریٹریٹ گھیراﺅ مارچ ناکام بنانے کیلئے لاٹھی چارچ کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے جس میں 20ملازمین زخمی ہوئے ۔ادھر کشمیر میں نیشنل ہیلتھ میشن ایمپلائز ایسوسی ایشن سے وابستہ افراد نے15ویں روز بھی این ایچ ایم اور دیگر مرکزی معاونت والی اسکیموں کے تحت کام کرنے والے ملاز مین نے کام چھوڑ ہڑتال جاری رکھی اور اپنے مطالبات کو لیکر سرینگر کی پرپاپ پارک میں دھرنا دیا۔اپنی نوکری کو مستقل کرنے کی مانگ کرنے والے نیشنل ہیلتھ میشن ایمپلائز ، آر این ٹی سی پی اور این اے سی او اور دیگر مرکزی اسکیموں کے تحت کام کرنے والے ملازمین پرجموں کے اندرا چوک میںپولیس نے لاٹھیاں برسائیں جب مذکورہ ملازمین جموں کے سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ احتجاجی ملازمین نے بدھ کو جموں کے پرس کلب میں جمع ہوکر سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کیااور سینکڑوں کی تعداد میں ملازمین جونہی اندرا نگر پہنچے تو وہاں پہلے سے موجود پولیس اہلکاروں نے ملازمین پر لاٹھیاں چلائیں اور آنسو گیس کے گولوں کی برسات کردی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس نے خواتین ملازمین پر بھی لاٹھیاں برسائیں جس میں کئی خواتین بھی زخمی ہوئیں۔ نیشنل ہیلتھ میشن ایمپلائز ایسوسی ایشن کے ترجمان عبدالرﺅف نے بتایا کہ پولیس نے اندرا نگر پہنچتے ہی سفید وردی میں ملبوس ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے پر لاٹھیاں برسائیں“ ۔ عبدالروف نے بتایا کہ پولیس نے نہ صرف ملازمین پر لاٹھیاں برسائیں بلکہ کئی ملازمین کے کپڑے بھی پھاڑ دئے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے خواتین پولیس کی عدم موجودگی میں خواتین ملازمین پر لاٹھیا ں برساکر کئی کو زخمی کردیا۔ انہوں نے جموں میں پیش آئے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ” حکومت ہمیں بتائے ،خواتین ملازمین کے مارچ کو روکنے کیلئے زنانہ پولیس کو تعینات کیوں نہیں کیا گیا “۔ انہوں نے کہا” ہم کسی بھی صورت میں اپنی مانگوں سے دستبردار نہیں ہونگے اور این ایچ ایم ملازمین کا احتجاج جاری رہے گا“۔ انہوں نے مزید کہاکہ نیشنل ہیلتھ میشن ایمپلائز اور دیگر مرکزی معاﺅنت والی اسکیموںکے تحت کام کرنے والے ملازمین بغیر کسی خوف کے اپنے حق کی لڑائی جاری رکھیں گے اور مستقلی کی تحریری ضمانت ملنے تک ریاست کے تینوں صوبوں میں جدو جہد جاری رکھیں گے۔ ادھر کشمیر میں احتجاجی ملازمین نے کام چھوڑ ہڑتال کے 15ویں روز بھی احتجاجی دھرنا دیا اور اپنے مطالبات کو لیکر احتجاج کیا ۔ سرینگر کی پرپاپ پارک میں احتجاجی دھرنے کی قیادت کرنے والے این ایچ ایم ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہین نواز نے بتایا کہ ریاستی سرکار نے مارچ 2017میں این ایچ ایم ملازمین کی مستقلی کیلئے پالیسی ترتیب دینے کیلئے ایک 6رکنی کمیٹی تشکیل دی جس نے 10مئی 2017کو ریاستی سرکار کو اپنی رپوٹ پیش کی ہے اور تب سے لیکر ریاستی سرکار اور وزیر صحت اس حوالے سے خاموش ہے۔