کپوارہ//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے حالیہ دورئہ کپوارہ کے دوران کنن پوشہ پورہ ،بابا گنڈ اورہانجی پورہ کو ما ڈل ولیج کا درجہ دینے کا علان کیا اور ان علاقوں کی تعمیر وترقی کے لئے کرو ڑوں روپئے واگزار کئے لیکن زمینی سطح پر ایس اکچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ ان دیہات کو ماڈل ولیج قرار دیا جاسکے۔ مقامی لوگو ں نے بدھ کو کپوارہ میں احتجاج کرتے ہوئے بتا یا کہ وزیراعلیٰ نے جب یہ اعلان کیا تو عوام کو خوشی ہوئی تھی لیکن اب عملی طور کسی ماڈل ولیج کیلئے کوئی کام نہیں ہورہا ہے ۔بابا گنڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری فیا ض احمد میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ کنن سے ہری تک ایک سڑک کو محکمہ تعمیرات عامہ نے کام کر کے ادھورا چھو ڑ دیا اور مقامی لوگو ں نے محکمہ سے اسی ادھوری سڑک پر دوبارہ کام کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ کنن ہری سڑک کو کپوارہ کرناہ سڑک سے ملایا جائے۔بابا گنڈ کے لوگو ں نے بتا یا کہ پوشہ پورہ بابا گنڈ سڑک کو کشادہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سڑک اس قدر تنگ ہے کہ ایک ساتھ دو گاڑیاں نہیں چل سکتی ہیں لیکن محکمہ نے اس سڑ ک کو یکسر نظر انداز کیا ہے۔لوگو ں نے بتا یا کہ بجلی کے حوالے سے بھی اس علاقہ میں لوگو ں سے مذاق کیا جارہا ہے اور محکمہ بجلی منظور نظر علاقوں میں بجلی کے کھمبے نصب کرتے ہیں اور باقی بستی کو نظر انداز کیا گیا ۔مقای لوگو ں کا کہنا ہے جب جب یہا ں سیلاب آیا تو اس کا خمیازہ کنن پوشہ پورہ ،بابا گنڈ اور ہانجی پورہ کے لوگو ں کو بھگتنا پڑ تا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ولیج کے نام پر نالہ کہمل کیلئے حفاظتی بنڈ تعمیر کرنے کا منصبوبہ تھا جس کی اہم ضرورت ہے لیکن متعلقہ محکمہ ان مقامات پر حفاظتی بنڈ تعمیر کر رہا ہے جہا ں سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔