راجوری // مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کو واحد متبادل قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاہے کہ مسئلہ کے تینوں فریق مل بیٹھ کر دائمی حل تلاش کریں تاکہ ریاست میں جاری خون خرابہ بند ہوسکے ۔وہ پیر کے روزیہاں نیشنل کانفرنس یوتھ کنونشن سے خطاب کر رہے تھے جس میں صوبائی صدر دیویندر رانا ، اعجاز جان ، مشتاق بخاری کے علاوہ بھاری تعداد میں مقامی لیڈراور ارکان بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فارق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل کانفرنس واحد جماعت ہے جو ریاست جموں وکشمیرمیں امن وامان اورتعمیر و ترقی کو یقینی بنا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے میں ہر ممکن تعاون دیگی ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نوشہر ہ میں چل رہے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نوشہرہ کو ضلع کا درجہ دیاجانا چاہئے تاکہ وہاں کی عوام کو راحت ملے۔ پروگرام میں دیگر لیڈران نے بھی نیشنل کانفرنس کو مضبوط کرنے اور زمینی سطح پر پارٹی کے لئے کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست جموں وکشمیر کا مستقبل ہے اور اس میں نوجوان طبقہ کو اپناکلیدی رول نبھانا ہوگا ۔پارٹی صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں بہتر سمت میں گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل رکھتے ہوئے ریاست کی کلہم ترقی، آپسی بھائی چارے اور ہم آہنگی کیلئے کام کیا جارہاہے ۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوان طبقہ موجودہ سرکار سے تنگ آچکا ہے کیونکہ 2014اسمبلی انتخابات میں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے جو وعدے کئے گئے تھے وہ سب سراب ثابت ہوئے ہیں ۔حکمران جماعت کو موقع پرست قرار دیتے ہوئے رانا نے کہا کہ لوگ اس جماعت کے مکروفریب سے بخوبی واقف ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوان طبقہ کو آگے آنا ہوگا تاکہ ریاست جموں وکشمیرکے تشخص اور یکجہتی کو محفوظ رکھا جاسکے اور لوگوں کو ان کے حقوق فراہم کئے جاسکیں ۔