بیروت//انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ دبئی کے حکمران شیخ محمد کی بیٹی شیخہ لطیفہ سے متعلق معلومات فراہم کرے اور ان کی قانونی حیثیت واضح کرے ۔واضح رہے کہ 17 اپریل کو سابق فرانسیسی جاسوس ہروی جوبرٹ نے انکشاف کیا تھا کہ کہ دبئی کے حکمران شیخ محمد کی بیٹی شیخہ لطیفہ کو گزشتہ مہینے کمانڈوز نے گرفتار کیا جس کے بعد سے تاحال ان کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں۔مشرق وسطیٰ میں انسانی حقوق کی تنظیم کی ڈائرکٹر سارہ لیہا وائٹ سن نے مطالبہ کیا کہ''اگر شیخہ لطیفہ کو گرفتار کیا گیا ہے تو انہیں عالمی قوانین کے مطابق ایک قیدی کا درجہ اور حقوق دیئے جائیں''۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں شیخہ لطیفہ کی ایک دوست کے مطابق کمانڈوز نے انہیں اس وقت گرفتار کیا جب وہ بحرہند میں سمندری راستے سے فرار ہونے کی کوشش کررہی تھیں، کمانڈوز نے انہیں کشتی سے گھسٹ کر باہر نکالا، تشدد کیا جبکہ وہ چیختی رہیں تاہم کمانڈوز انہیں حراساں کرتے رہے ۔فرانسیسی خبررساں ادارے (اے ایف پی) نے 18 اپریل کو اپنے ذرائع سے تصدیق کی کہ دبئی حکومت نے شیخہ لطیفہ کو یو اے ای 'واپس منتقل' کردیا گیا۔بی بی سی کے مطابق شیخہ لطیفہ کو دبئی انتظامیہ کے حوالے کیا جس کے بعد سے ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی معلومات منظر عام پر نہیں آئی ہے ۔ادھر میل آن لائن کے مطابق شیخ محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی عرب کی سماجی روایات کے خلاف تھی اور آزادانہ زندگی گزارنا چاہتی تھیں۔اس حوالے سے مزید بتایا کہ شیخہ لطیفہ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ انہیں خفیہ طور پر تین سال تک پابند سلاسل رکھا گیا بعدازاں ڈاکٹروں کی مدد سے انہیں اسپتال منتقل کیا گیا اور انہیں باغی نظریات اور انتشار پھیلانے سے منع بھی کیا گیا۔دوسری جانب دبئی انتظامیہ نے 'قانونی جواز'بنا کر رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔واضح رہے کہ شیخ محمد بن راشد المکتوم ناصرف دبئی کے حکمران ہیں بلکہ امارات کے اہم وزیر اور نائب صدر بھی ہیں، جن کے بارے میں معروف ہے کہ ان کی متعدد بیویوں سے درجن سے زائد بچے ہیں، ان میں سے بعض بیٹے اور بیٹیاں مقامی میڈیا میں مشہور ہیں جبکہ بیشتر کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔۔یو این آئی