سرینگر// ریاست میں حالیہ ایام کے دوران9آئی ائے ایس افسران اور دیگر درجنوں بیر کریٹوں کی سبکدوشی کی وجہ سے سرکاری محکموں میں عملے کی کمی پیدا ہوگئی ہے،جس کی وجہ سے دیگر افسران پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق امسال کئی اعلیٰ افسران سبکدوش ہو رہے ہیں،جن میں20’’کے ائے ایس‘‘ افسران بھی شامل ہیں،اور اس کی وجہ سے انتظامیہ کا کام متاثر ہونے کا احتمال ہے۔ محکمہ انتظامی عمومی کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ امسال کئی بہترین افسران سبکدوش ہو رہے ہیں،جو کہ ایک متواتر عمل ہے،تاہم گزشتہ2برسوں سے سبکدوش ہونے والے افسران کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قریب2900اسامیاں بشمول،آئی پی ایس ،آئی ائے ایس،کے ائے ایس،کے پی ایس،پروفیسر اور لکچراروں کی خالی ہے،جس کی وجہ سے نہ صرف انتظامی کام نظر اندار ہوتا ہے،بلکہ جن دیگر افسران کو اضافی چارج دیا گیا ہے،ان پر بھی اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔2016اور2017میں9آئی ائے ایس افسران سبکدوش ہوئے،جن میں غضنفر حسین،ونود کول،ارن کمار،محمد اشرف بخاری،ظفر احمد بٹ،اشوک کمار انگو رانا۔تیسرنگ انگچوک،ونیتا گپتا،اور بی بی ویاس شامل ہیں،تاہم بھارت بھوشن ویاس کی ملازمت میں توسیع کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب2018میں مزید افسران سبکدوش ہو رہے ہیں،جس کی وجہ سے ریاستی انتظامیہ کے کام میں مزید فرق پڑنے کا اندیشہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سبکدوش ہونے والے بیروکریٹوں میں کئی افسران اعلیٰ عہدوں پر فائز ہے،جن میں سیکریٹری اور ڈائریکٹر بھی شامل ہیں،اور ان اسامیوں کو پُر کرنے کی فوری ضرورت ہے۔2018میں کئی ایک آئی ائے ایس افسران بھی سبکدوش ہو رہے ہیں،جس سے انتظامی کام مزید متاثر ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق ریاست میں پہلی ہی آئی ائے ایس افسران کی قلت کا سامنا ہے۔اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پرانہوں نے بتایا’’فی الوقت جموں کشمیر میں آئی ائے ایس افسران کی مقررہ تعداد137ہے،تاہم صرف84آئی ایے ایس افسران ہی دستیاب ہیں،جبکہ ان84افسران میں سے بی آر شرما،سریش کمار،پی کے ترپاٹھی،سدانشو پانڈے،اتل ڈھلو،شانت منو،بھپل پاٹھک،اشوک کمار پرمار،منوج کمار دیویدی،من دیپ کور اور یشا مدو گل سمیت11آئی ائے ایس افسران مرکز میں مودی سرکار کے کلیدی عہدوں پر فائز ہے‘‘۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ افسران’’ ریاست میں اپنی خدمات دینے کیلئے تیار نہیں ہے‘‘۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی سرکار نے اگرچہ جموں کشمیر کیڈر کے تمام آئی ائے ایس افسران کی مرکز سے واپس طلبی کی کوشش کی تھی،تاہم مرکز کی طرف سے اب تک سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا۔ادھر ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں90آئی پی ایس افسران کی قلت ہے،جبکہ انکی مجموعی مقررہ تعداد147ہے۔فی الوقت84آئی پی ایس افسران جموں کشمیر سٹیٹ کاڈر کے زمرے میں ہیں،جبکہ24مرکز میں اپنی نمائندگی(ڈپوٹیشن) کر رہے ہیں،جس کی وجہ سے جموں کشمیر میں آئی پی ایس افسران کی تعداد 60تک ہی محدود ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ6برسوں سے کسی بھی ریاستی سرکار نے یونین پبلک سروس کمیشن کو کے پی ایس افسران کو آئی پی ایس زمرے میں شامل کرنے کیلئے’’کے پی ایس‘‘ کی سنیارٹی فہرست کے خلاف کئی مقدموں کے پیش نظرریاست میں خالی آئی پی ایس افسران کی اسامیوں کو پر کرنے کیلئے کوئی بھی تجویز روانہ نہیں کی ہے۔ گزشتہ برس جون میں محبوبہ مفتی سرکار نے کے پی ایس کی کاڈر بندی کو منظور دی،جس کے بعد کئی کے پی ایس افسران کو آئی پی ایس افسران کے گریڈ کا تنخواہ فرہم کیا گیا۔