جموں//سپریم کورٹ کی طرف سے گزشتہ روز کٹھوعہ معاملہ کے تین گواہوں کی طرف سے تحفظ فراہم کرنے نیز معاملہ کی تحقیقات کسی ’غیر جانبدار مرکزی‘ایجنسی کو سونپنے کی عرضی مسترد کئے جانے کے بعد جمعرات کو دوبارہ سماعت ہوئی ،جس دوران ریاستی پولیس کو ہدایت دی گئی کہ وہ گواہوں کے بیانات اُنکے اہل خانہ کی موجودگی میں قلم بند کئے جائیں ۔عدالت عظمیٰ نے پولیس کو بتایاکہ کٹھوعہ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں گواہوں کے بیانات کو قابل ِ مشاہدہ فاصلے سے بیان کرے۔ قابل ذکر ہے کہ ساحل شرما، سچن شرما اور نیرج شرما نے پولیس تفتیش کے دوران تشدد کا شکار بنائے جانے کا الزام عائدکیا تھااور عدالت سے تحفظ کی مانگ کی تھی ۔عدالت عظمیٰ نے کٹھوعہ کیس کی سی بی آئی کومنتقلی سے انکارکرتے ہوئے ملزم ویشال کے حق میں گواہی دینے والے3نوجوانوں کوتحفظ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ۔چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے سہ رُکنی بینچ نے ملزم کے گواہوں کی جانب سے 14مئی کودائرعرضی خارج کرتے ہوئے اس کیس کی اگلی شنوائی کیلئے17مئی کی تاریخ مقررکردی گئی تھی۔سانحہ کٹھوعہ کے سرغنہ ملزم سانجھی رام کے بیٹے ملزم ویشال جنگوترا کے تین دوستوں نے ایڈوکیٹ روی شرماکے ذریعے14مئی کوعدالت عظمیٰ میں دائرکردہ عرضی میں الزام عائد کیا تھا کہ کشمیر پولیس کی کرائم برانچ اُنہیں پریشان کر رہی ہے۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ تینوں گواہوں کو پولیس پریشان کر رہی ہے اور انھیں بیان قلمبندکرانے کیلئے باربارطلب کیاجاتاہے جبکہ انہوں نے دائرعرضی میں یہ الزام بھی لگایاکہ اُنکے افرادخانہ پرریاستی پولیس اورکرائم برانچ دبائو بنا رہی ہے۔تاہم چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے سہ رُکنی بینچ نے واضح کردیاکہ گواہوں کوکوئی حفاظت فراہم نہیں کی جاسکتی ہے اور کیس کی سی بی آئی کومنتقلی سے صاف انکارکرتے ہوئے اس کیس کی اگلی شنوائی کیلئے17مئی کی تاریخ مقررکردی تھی جس پر آج سماعت ہوئی ۔