کولگام //جنوبی ضلع کولگام کے قیموہ علاقے میں قائم جموںو کشمیر بنک شاخ پر بندوق برداروں نے دن دھاڑے دھاوا بول کر3 لاکھ سے زائد روپے اُڑا لئے۔ بتایا جاتا ہے کہ دن کے تقریباََ ایک بجے نامعلوم نقاب پوش مسلح افراد، جنکی تعداد پانچ بتائی جاتی ہے، قصبے کے وسط میں دوسری منزل پر قائم جموں و کشمیر بنک کی شاخ کے اندر داخل ہوئے اور کیش کونٹر پر موجود تین لاکھ اٹھائیس ہزار روپے لے کر فرار ہوئے۔ اس موقعہ پر بنک میں موجود گاہکوں اور ملازمین میں سراسیمگی پھیل گئی ۔معاملے کی اطلاع ملتے ہی بھاری تعداد میں فورسز جائے واردات پر پہنچی اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کی۔ قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد سے اب تک وادی میں بینک ڈکیتی اور اے ٹی ایم مشینیں چرانے کے قریب چار درجن واقعات پیش آئے ہیں۔ 2017 کے ابتدائی مہینوں کے دوران بینک ڈکیتیوں میں اضافے کے پیش نظر مئی کے مہینے میں جنوبی کشمیر کے شوپیان اور پلوامہ اضلاع میں مختلف بینکوں کی 45 شاخوں پر کیش کے لین دین کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سرگرم جنگجو تنظیمیں پیسوں کی قلت کی وجہ سے بینکوں میں ڈاکہ ڈال رہی ہیں۔