سرینگر+جموں //وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اُمید ظاہر کی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کے دُکھ درد کا حل نکالنے کی کوششیں جاری رکھیں گے ۔ 330 میگاواٹ کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے افتتاح اور سرینگر سیمی رنگ روڈ پروجیکٹ کا سنگِ بنیاد رکھنے کے موقعہ پر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ریاست میں یک طرفہ سیکورٹی آپریشن روکنے کے اعلان کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعی ایک بہت بڑا قدم ہے جس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف سیاسی پارٹیوں بلکہ ریاست کی ہر ماں اُن کے زخموں پر مرہم لگانے کیلئے آپ کی شکر گذار ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امن کے راستے پر چلتے ہوئے اور تشدد کا خاتمہ کرنے کے سلسلے میں ریاست کے لوگ دس قدم آگے چلنے کیلئے تیار ہیں ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے قدم کی بدولت ریاست کے لوگوں میں وزیر اعظم کی سٹیٹس مین شپ کے بارے میں اُمیدیں اور اعتماد پیدا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعظم ہی ہیں جنہوں نے اتنا بہادرانہ قدم اٹھایا اور یہ صرف مودی ہی ہیں جنہیں آگے چلنے کی اتنی سکت موجود ہے جس کی بدولت وہ ریاست جموں کشمیر کو موجودہ صورتحال سے باہر نکال سکتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت کے ایجنڈا آف الائنس کی بدولت پچھلے 70 سال سے ریاست کو درپیش مشکلات کا حل نکالنے کیلئے یہ ایک سیاسی دستاویز ثابت ہوا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم سے مخاطب ہو کر کہا کہ جب آپ اور مرحوم مفتی نے ریاست کیلئے ایک روڈ میپ تیار کیا ، یہ روڈ میپ آہستہ آہستہ ایک سیاسی دستاویز کی شکل اختیار کرتا گیا جس کی بدولت ریاست جموں و کشمیر کو درپیش معاملات حل کئے جا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایجنڈا آف الائنس میں وہ سب باتیں موجود ہیں جن سے ریاست کے لوگوں کے تمام معاملات حل کئے جا سکتے ہیں چاہے وہ ریفوجیوں کی باز آباد کاری ہو ، سرحد کے آر پار راستوں کلو کھولنے ، بات چیت ، شاردا پیٹھ کو کھولنے ، انڈس واٹر ٹریٹی میں ہوئے نقصانات کا معاوضہ ہو ، سارے مسائل کا حل اسی دستاویز میں موجود ہے لیکن اگر ضرورت ہے تو اس دستاویز پر عمل درآمد کی ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر ایک نازک ریاست ہے ، یہاں سیاسی اثرات ہمیشہ ترقیاتی معاملات پر حاوی رہے ہیں اور اُسی حساب سے ہمیں اپنے مسائل حل کرنے ہوں گے ۔ انہوں نے پی ایم ڈی پی و دیگر سکیموں کیلئے مرکز کی طرف سے فراخدلانہ امداد فراہم کرنے کیلئے مرکز کا شکریہ ادا کیا ۔ ادھر جموںکے لوگوں کے آپسی میل ملاپ ، بھائی چارے اور اعلیٰ اخلاق قائم رکھنے کی ستائش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے آج کہا کہ اُن کی حکومت نے جموں کو خود مختیار سیاحتی مقام بنانے کا تہیہ کیا ہوا ہے ۔ ایک ہزار میگاواٹ پکل ڈول ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ اور 52 کلو میٹر طویل جموں سیمی رنگ روڈ پروجیکٹ کا سنگِ بنیاد رکھنے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج کے دور میں جموں ایک اعلیٰ سماجی نظام قائم رکھنے والا صوبہ مانا جاتا ہے جس نے تمام سماجوں کیلئے ایک مثال قائم کی ہے ۔ انہوں نے جموں کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ صبر اور استقلال کی ان روایات کو ہمیشہ قایم رکھیں جس کیلئے ہماری ریاست صدیوں سے مشہور ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب کئی لوگ وادی کشمیر چھوڑ کر باہر آئے جموں کے لوگوں نے نہ صرف اُن کیلئے اپنے گھر کے دروازے کھلے رکھے بلکہ اُن کیلئے تمام ضروریاتِ زندگی فراہم کئے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جموں میں سیاحتی ڈھانچے کو استحکام بخشنے کے تمام تر کوششیں کر رہی ہے جس کی ایک مثال براہ راست کٹڑہ تک ریل کا رابطہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ہی کئی پروجیکٹوں کا اسی سال افتتاح کیا جا رہا ہے ۔ کئی اور پروجیکٹوں پر کام شدو مد سے جاری ہے ۔ تقریب کے دوران وزیر اعظم نے ایک ہزار میگاواٹ پکل ڈول ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کا سنگِ بنیاد رکھا پروجیکٹ جو ضلع کشتواڑ میں تعمیر ہو گا پر 8112 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے ۔ انہوں نے 58 کلو میٹر سیمی رینگ روڈ پروجیکٹ جموں کا سنگِ بنیاد بھی رکھا جس پر 2300 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے ۔ وزیر اعظم نے کٹڑہ میں شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کی طرف سے تعمیر کئے گئے 7 کلو میٹر طویل تارا کوٹ مارگ کا بھی افتتاح کیا ۔