سرینگر//شوپیاں کے چھی گنڈ علاقے میں امسال24جنوری کو جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان جھڑپ کے دوران زخمی ہونے کے کئی روز بعد جان بحق کمسن بچی صائمہ ہلال کی ہلاکت پر بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں پولیس اور ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیاں نے رپورٹ پیش کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ محاصرہ توڑنے کے دوران جنگجوئوں کی فائرنگ کے دوران مذکورہ دوشیزہ زخمی ہوئی تھی۔ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس چیئرمین محمد احسن اونتو نے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا،اور آپریشنوں کے دوران معیاری عملیاتی طریقہ کار کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عرضی دائر کی ہے۔ انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن نے متعلقہ ضلع پولیس افسر اور ضلع ترقیاتی کمشنر کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ پولیس نے اس سلسلے میںجو رپورٹ پیش کی ہے،اس میں کہا گیا ہے کہ صائمہ ہلال نامی دوشیزہ عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئی،اور بعد میں زخموںکی تاب نہ لا کر چل بسی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ24جنوری کو پولیس پوسٹ کیگام کو معتبر ذرائع سے اطلاع ملی کہ اڈو چھی گنڈ علاقے میں کچھ جنگجو موجود ہیں،جس کے بعد علاقے کو محاصرے میں لایا گیا،اور فوج کی44آر آر،14بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس نے تلاشیوں کا سلسلہ شروع کیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگجوئوں نے محاصرہ توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے اندھا دھند طریقے سے فائرنگ کی،جس کے نتیجے میں شاکر احمد ڈار،سمی جان اور صائمہ ہلال زخمی ہوئے،جن میں سے شاکر احمد اسپتال لئے جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ بیٹھا۔پولیس رپورٹ کے مطابق جھڑپ میں2جنگجوئوں کو جاں بحق کیا گیا،جبکہ ما بعد تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ جاں بحق عسکریت پسند ہلال احمد نامی ایک شہری کے گھر میں چھپے تھے،جو کہ ایک عسکریت پسند اور جاں بحق دوشیزہ صائمہ کے والد تھے۔رپورٹ کے مطابق’’ اسی مکان سے جنگجو محاصرہ توڑنے کیلئے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے باہر آئے،جس میں شاکر یوسف،صائمہ ہلال اور سمی جان زخمی ہوئے،اور بعد میں اسپتال لے جاتے ہوئے شاکر احمد فوت ہوئے۔پولیس کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق بعد میں صائمہ ہلال بھی جاں بحق ہوئی۔ادھر ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیاں نے بھی اس سلسلے میں اپنی رپورٹ پیش کی ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ3شہری جھڑپ کے دوران زخمی ہوئے،جن میں شاکر احمد اور صائمہ ہلال زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے سے
متعلق مجسٹریل تحقیقات جاری ہے۔