بیروت// یمن کے وسطی شہر حماۃ میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے پراسرار دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے سرکاری فوجیوں اور اس کی معاون ملیشیاؤں کے عناصر کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔ درجنوں افراد زخمی بتائے جاتے ہیں۔شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’رصد گاہ‘ برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حما? کے فوجی اڈے پر یکیبعد دیگرے متعدد دھماکے ہوئے۔ دھماکوں کے نتیجے میں اسد رجیم کے 28 فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ شامی نڑاد بعض غیر سرکاری جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔ ان کی غیر مصدقہ تعداد گیارہ بتائی جاتی ہے۔ دھماکوں کے نتیجے میں کئی افراد شدید زخمی اور متعدد لاپتا ہیں۔انسانی حقوق کے آبزرویٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ حما? کے فوجی اڈے میں دھماکوں سیہلاک ہونیوالوں میں ایران اور حزب اللہ کے جنگجو بھی ہو سکتے ہیں۔حما? کے فوجی اڈے پر دھماکوں کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ تاہم انسانی حقوق کارکن رامی عبدالرحمان کے مطابق یہ دھماکے کسی فنی خرابی کا نتیجہ بھی ہوسکتے ہیں۔ فوجی اڈے سے سیاہ دھوئیں کے بادل بلند ہوتے اور زور دار آوازیں سنائی دی گئی ہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ چند ہفتوں سے اسرائیل بھی شام میں ایرانی اور شامی تنصیبات کو بمباری کا نشانہ بنا رہا ہے۔ شام میں اسرائیل کی آخری فوجی کارروائی نو اور دس مئی کی درمیانی شب کی گئی تھی جس میں صہیونی ریاست نے درجنوں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور انہیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔