بجہباڑہ //بجبہاڑہ میں نامعلوم افراد نے فورسز گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے گرینیڈ پھنکا جو نشانہ چوک کر سڑک پر پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 11راہگیر زخمی ہوئے ۔جنہیں علاج ومعالجہ کے لئے اسپتال میں داخل کیا گیا ۔فورسز نے علاقہ کو گھیرے میں لے کر حملہ آور کی تلاش شروع کیتاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔بدھ دوپہر12بجے نامعلوم افراد نے بجبہاڑہ گوری وان کے نزدیک فورسز گاڑی پر گرینیڈ پھینکا ۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور کا نشانہ غالباََ سی آر پی جپسی تھی جو واردت کے وقت یہاں سے گذر رہی تھی ۔تاہم گرینیڈ سڑک پر پھٹ گیا جس کے نتیجے میں3خواتین سمیت11افراد زخمی ہوئے ۔زخمیوں میں محمد عبد اللہ شاہ ساکن بجبہاڑہ، اشفاق احمد ڈار ساکن بڈی گام ،ڈیزی جان زوجہ منظور احمد ساکن بڈی گام،طارق احمد شاہ ساکن ترال،عاصف احمد تیلی ساکن ترال،ڈیزی زوجہ منظور احمد،روزی اختر دختر غلام احمد ساکن حسن پورہ،منیرہ اختر دختر عبد الرحمان ساکن سنگم ،فیاض احمد حجام ساکن زینہ پورہ،توصیف احمد حجام اور فضل احمد ولد محمد مقبول ساکن زینہ پورہ شامل ہیں۔ زخمی افراد میں سے3کو صدر اسپتال سرینگر روانہ کیا گیا ۔ زخمیوںمیں سے فضل احمد ولد محمد مقبول ساکن زینہ پورہ شوپیان کی نازک بتائی جارہی ہے جس کو فوری طور علاج و معالجہ کیلئے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ پہنچایا گیاجہاں ڈاکٹروں نے اسکی حالت تشویشناک قرار دی ۔گر ینیڈ دھماکہ کے وقت بازار میں کافی بھیڑ تھی جس کے سبب وہاں افرا تفری مچ گئی جبکہ دکانداروں نے دکانوں کے شٹر نیچے گرائے ۔حملہ کے فوراََ بعد فوج ،سی آر پی ایف و پولیس کے اسپیشل گروپ نے علاقہ کو محاصرہ میں لے کر حملہ آور کی تلاش شروع کی ۔اس بیچ علاقہ میں مشتعل نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں نوجوانوں کو منتشر کر نے کے لئے آنسو گیس کے گولے پھینکے گئے ۔