سرینگر //مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے نماز جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسجد سرینگر کے باہر نہتے مظاہرین کیخلاف پولیس اور فورسز کی جانب سے بلا اشتعال پیلٹ ، ٹیر گیس شلنگ اور مرچی گیس کے تباہ کن استعمال، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے جبکہ کئی افراد کی آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے انکی آنکھیں شدید متاثر ہوئیں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اور فورسز کا طرز عمل شدید جارحیت کے مترادف ہے اور جس طرح نہتے نوجوانوں کیخلاف طاقت اور تشدد کا بے تحاشا استعمال کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان اور اس کے ریاستی اتحادی ایک طرف کشمیری عوام کیخلاف ظلم و جبر سے عبارت حربے آزما رہی ہے اور مار دھاڑ اور ظلم و تشدد کے تمام ریکارڈ مات کررہی ہے اور دوسری طرف چاہتے ہیں کہ لوگ اس ظلم کیخلاف صدائے احتجاج بلند نہ کریں۔اس دوران میرواعظ اور محمد یاسین ملک نے جامع مسجد سرینگر کے احاطے میں شلنگ ، پیلٹ اور زیادتیوں کیخلاف پائین شہر کی تاجر برادری کی جانب سے کئے جارہے احتجاجی دھرنے میں شرکت کی اور ان کے ساتھ اپنی بھر پور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سرکاری فورسز کی اس غیر انسانی کارروائیوںکیخلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔اس دوران میرواعظ عمر فاروق نے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال جاکر جمعہ کو مرکزی جامع مسجد سرینگر کے باہرپولیس اور فورسز کی اندھا دھند اور بلا اشتعارل فائرنگ کے نتیجے میں زخمی افراد کی عیادت اور ان کی خیر و عافیت دریافت کی ۔میرواعظ نے میرواعظ نے کہا کہ اگر حکومت نے جامع مسجد کو نشانہ بنانے اور لوگوں کیخلاف ظلم و زیادتی سے عبارت ، پر تشدد کارروائیوں پر مبنی پالیسی بند نہیں کی تو لوگ سڑکوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر یہاں کے نوجوانوں کو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرنے کیلئے تشدد کا سہارا لے رہی ہے اور ہماری پر امن تحریکی مزاحمت کو دبانے کیلئے مختلف حربے بروئے کار لا رہی ہے۔