سرینگر // کیرالا میں نپا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات کے بعد ہماچل پردیش میں الرٹ جاری کردیا گیا ہے جبکہ وادی میںوبائی بیماریوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی آمد کے ساتھ ساتھ کیرالا سے آنے والے میوہ جات بھی نپاہ وائرس کے پھیلائو کا سبب بن سکتے ہیں۔ ماہرین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ماہ سیام میں کھجوروں ، کھجوروں سے نکلنے والے رس اور دیگر میوہ جات کا استعمال بڑی احتیاط سے کریں ۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ نپاہ وائرس کا کوئی بھی علاج دستیاب نہیں ہے اسلئے اس بیماری سے بچائو ہی واحد علاج ہے۔ہماچل پردیش میں مبینہ طور پر اس مہلک وائرس کی علامات پائی گئی ہیں۔جس کے فوراً بعد الرٹ جاری کر کے بس اڈوں، ریلوے سٹیشنوں، چوراہوں، برے شاپمگ مالز، تعلیمی اداروں کے باہر طبی جانچ کے چیک پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں۔بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا میں نپاہ وائرس کے زبردست پھیلائو اور 13افراد کی موت واقع ہونے کے بعد وادی میں وبائی بیماریوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نپاہ وائرس وادی میں بھی کئی افراد کی موت کا سبب بن سکتا ہے۔ شیر کشمیر انسٹیچوٹ آف میڈیکل سائنسز میں وبائی بیماریوں پر نظر رکھنے والے شعبہ جنرل میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر پرویز احمد کول نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ نپاہ وائرس متاثرہ شخص کے دماغ پر اثر کرتا ہے اور آہستہ آہستہ مریض کو کوما (Coma) کی طرف لیکر جاتا ہے‘‘۔ڈاکٹر پرویز کول نے بتایا کہ نپاہ وائر س چمگادڑ، خنزیر، گھوڑوں اور دیگر جانوروں میں پایا جاتا ہے اور جب یہ جانور کسی بھی انسان کے رابطے میں آتے ہیں تو وہ انسان بھی نپاہ وائرس کا شکار ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں میں یہ بیماری زیادہ تر چمگادڑوں کے منہ سے ٹپکنے والی رال کے ساتھ ہوتی ہے اور میوہ جات میں چلا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کیوںکہ ایک سیاحتی مقام ہے ، اسلئے نپاہ وائرس سے متاثرہ ہونے والے لوگوں کے ہمراہ بیماری کی کشمیر منتقلی خارج از امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ابتک نپاہ وائرس کا کوئی بھی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے اسلئے لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے تاہم سیاحتی مقام ہونے کی وجہ سے لوگوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا سے آنے والے میوہ جات اور Date, palm,Sap کو محتاط انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر نثار الحسن نے نپاہ وائرس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’’ ہم نے نپاہ وائرس سے بچائو کیلئے ایڈوائزری جاری کردی ہے کیونکہ یہ بیماری کبھی بھی کشمیر وارد ہوسکتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’کشمیر سیاحتی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ میوہ جات در آمد کرنے کی ایک بڑی منڈی بھی ہے ، اسلئے یہ بیماری میوہ جات کے ذریعے بھی لوگوں تک پہنچ سکتی ہے‘‘۔ ڈاکٹر نثارلحسن نے کہا کہ لوگوں کو خراب میوہ جات کا استعمال ہر گز نہیں کرنا چاہئے اور کجھوروں کا رس استعمال کرنے سے بھی گریز کرنا چاہئے۔ نپاہ وائرس کے شکار مریضوں میں سر درد، الٹیاں ، تھکاوٹ اور چند سیدھے کوما میں چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ریاستوں میں دوران سفر دیگر لوگوں سے سیدھے رابطے سے بھی بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ادھر نیشنل انسٹیچوٹ آف کمینوکیبل ڈیزیز(National Institute of communicable Dissease) نے بھی لوگوں کیلئے ایڈوائزری جاری کردی ہے اور لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نپاہ وائرس سے بچنے کیلئے احتیاط برتیں۔