جموں// نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے مرکزی حکومت کی طرف سے پاکستا ن اور حریت کانفرنس کے ساتھ امن مذاکرات کی تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہندوستان سبھی کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے لیکن اس پیشکش کا مثبت جواب ملنا چاہئے‘۔ انہوں نے کہا ’ہم پاکستان سمیت سبھی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں، ہمیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بات کرنے میں کوئی دقت نہیں ہے لیکن پڑوسیوں کو بھی دہشت گردی کی اعانت کے بجائے اسی جذبہ کے ساتھ رد عمل ظاہر کرنا چاہئے ‘۔نائیڈو نے کہا ہے کہ بھارت تمام ممالک بشمول پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے پڑوسی (پاکستان) کے ساتھ کوئی پریشانی نہیں ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اسے (پاکستان کو) دہشت گردوں کی مدد، حمایت اور تربیت دینے سے متعلق اپنی پالیسی ترک کرنی چاہیے۔ نائب صدر جمہوریہ نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں انڈین انسٹی چیوٹ آف انٹی گریٹیو میڈیسن (آئی آئی آئی ایم) کے سائنسدانوں، طالب علموں اور ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائیڈو نے کہا کہ ترقی کے لئے امن ضروری ہے۔ انہوں نے کہا ’امن اور خوشحالی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔، ہمیں اپنے پڑوسی سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ہم تمام ممالک بشمول پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ہمیں پاکستان سے مذاکرات کے لئے تیار ہونا چاہیے۔ لیکن اسے (پاکستان کو) دہشت گردوں کی مدد، حمایت اور تربیت دینے سے متعلق اپنی پالیسی ترک کرنی چاہیے‘۔ انہوں نے کہا ’ہم قومی سلامتی اور یکجہتی کے معاملات پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ پاکستان کو اپنے اس عزم کہ وہ اپنی زمین کو دہشت گردوں کی تربیت کے لئے استعمال نہیں ہونے دے گا، کا احترام کرنا چاہیے‘۔ ترقی اور خوشحالی کے لئے امن کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ یہ نجکاری ، گلوبلائزیشن اور لبرلائزیشن کی دنیا ہے کوئی بھی تنہا رہ کر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب پوری دنیا آگے بڑھ رہی ، ملک کے دوسرے حصے ترقی کر رہے ہیں تو جموں کشمیر کیوں پیچھے رہے ، ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہئے‘۔ نائب صدر نے کہا کہ جموں کشمیر کے لوگوں کو اس بات کا فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ موجودہ ماحول میں رہنا چاہتے ہیں یا امن کے خواہاں ہیں۔ امن کو ایک موقعہ دئیے جانے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن او رخوشحالی کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور امن کے بغیر ترقی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔نائب صدر نے جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدی پر کشیدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے لئے امن ضروری ہے۔ اگر ہماری سرحد پر کشیدگی ہوگی تو ہم اپنی ترقیاتی سرگرمیوں کی طرف توجہ نہیں دے پائیں گے‘۔ نائیڈو نے سیاستدانوں سے کہا کہ وہ ریسرچ (تحقیق) اپنے لئے نہیں بلکہ لوگوں کے فائدہ کے لئے کریں۔ انہوں نے کہا ’ریسرچ اور ترقی سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ آپ کا ریسرچ لوگوں کے لئے فائد مند ثابت ہونا چاہیے‘۔ ریاستی گورنر نریندر ناتھ ووہرا، وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ، نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا اور دیگر شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔