سرینگر//جامع مسجد سرینگر کے باہر جمعہ کو سی آر پی ایف گاڑی سے کچلنے کے نتیجے میں نوجوان کی ہلاکت کے بعد اسکے جنازہ پر ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کی گئی،جبکہ پولیس نگرانی میں قیصر امین کو مزار شہداء عیدگاہ میں سپرد خاک کیا گیا۔اس دوران پائین شہر کے حساس علاقوں میں کرفیو جیسی بندشیں عائد کی گئیں۔ فتح کدل،صفاکدل،چھتہ بل ،بمنہ اور ڈلگیٹ میں سنگباری کے واقعات رونما ہوئے ،جس میں4خواتین سمیت ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔ سرینگر اور بڈگام میں انٹرنیٹ سہولیات منقطعرہیں جبکہ ریل سروس بھی بند رہی۔
نوجوان سپرد لحد
قیصر امین ساکن نمچہ بل فتح کدل حال بچھوارہ ڈلگیٹ نامی21 برس کا نوجوان جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب زخموں کا تاب نہ لاکر چل بسا۔ قیصر کے نزدیکی رشتہ دار زاہد احمد نے بتایا کہ’’ڈاکٹروں کے مطابق قیصر کے اندرونی اعضا بری طرح سے مجروح ہوچکے تھے جبکہ اُس کے پھیپھروں میں کافی ہوا جمع ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ قیصر کی پسلیوں میں کئی فریکچر ہوچکے تھے اور اُن کے اندرونی اعضا میں بیشتر مقامات پر خون جم چکا تھا جس کی وجہ سے قیصر کی حالت تشویش ناک بنی ہوئی تھی۔ زاہد کے مطابق ڈاکٹروں نے بتایا کہ ہم نے انتہائی کوشش کی کہ قیصر موت و حیات کی اس جنگ میں بسلامت نکل آئے مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ قریب ایک بجکر30منٹ پر قیصر امین کی نعش کو لیکر اہل خانہ روانہ ہوئے اور انہیں آبائی علاقے فتح کدل پہنچایا گیا،جہاں پر پہلے سے ہی لوگ انکا انتظار کر رہے تھے۔ صورہ سے فتح کدل تک اور بھی لوگ ان سے جڑ گئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد فتح کدل میں جمع ہوئی۔ قیصر کی لاش اپنے آبائی علاقہ فتح کدل پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ اس دوران جاں بحق نوجوان کی دو بہنیں اپنے بھائی کی جدائی پر آنسوئوں کا سمندر بہا رہی تھیں جبکہ دیگرخواتین کو سینہ کوبی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ لوگوں نے اس موقعہ پر سیکورٹی فورسز کے خلاف جم کر نعرہ بازی کرتے ہوئے اسلام اور آزادی کے حق میں بھی زور دار نعرے بازی کی ۔عینی شاہدین کے مطابق چونکی سحری کا وقت تھا،اس لئے اعلان کیا گیا کہ قیصرکی نماز جنازہ سنیچرکی صبح 10بجے اداکی جائے گی،جس کے بعد لوگ اگر چہ سحری کھانے اور نماز ادا کرنے کی غرض سے منتشر ہوئے تاہم ایک مرتبہ پھر جمع ہوئے ۔ سنیچر کی صبح جونہی لوگوں نے قیصر کی لاش مین چوک فتح کدل کی جانب لے جانے کی کوشش کی تو موقعہ پر موجود فورسز اہلکاروں نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جس دوران فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارچ کیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فورسز نے ٹیر گیس شلنگ، پیلٹ فائرنگ، پاوا شل اور ہوائی فائرنگ کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے ماحول کو انتہائی کشیدہ بنادیا ۔ فورس کارروائی کی وجہ سے لوگ منتشر ہوئے، جس کے بعد40افراد پر مشتمل لوگوں نے قیصر امین کی نماز جنازہ ادا کی۔ پولیس کی نگرانی میں کم و قلیل لوگوں کے ہمراہ قیصر کا جسد خاکی مزار شہداء عید گاہ پہنچایا گیا،جہاں پر پہلے سے ہی کچھ لوگ موجود تھے،اور ایک مرتبہ پھر قیصرکی نماز جنازہ ادا کی گئی ،جس کے بعد اسے سپرد لحد کیا گیا۔اس دوران فورسز کارروائی کی وجہ سے نوجوان بھی آگ بگولہ ہوئے اور انہوں نے فورسز پر چہار سو سنگ باری کی۔
احتجاجی مظاہرے
شہر خاص کے صفاکدل،چھتہ بل ،بمنہ اور ان کے مضافاتی علاقوں میںنوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر تازہ شہری ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے کئے ۔ان علاقوں میں احتجاجی مظاہرین اور پولیس وفورسز کے درمیان مزاحمت ہوئی ،جس دوران پولیس وفورسز نے مشتعل مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی اور مرچی گیس کا استعمال کیا ۔معلوم ہوا ہے کہ جسکے ساتھ ہی طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا کیو نکہ نوجوانوں نے مشتعل ہو کر خشت باری کی جبکہ اضافی فورسز اہلکاروں کو طلب کرکے احتجاجی مظاہرین کو لاٹھی چارج ،ٹیر گیس شلنگ اور مرچی گیس کے استعمال سے منتشر کر نے کوششیں کی گئیں ،تاہم وقفے وقفے سے یہ سلسلہ دن بھر جاری جارہا ہے ۔دن بھر جاری رہنے والی جھڑپوں میں کئی افراد مضروب ہوئے جن میں پولیس وفورسز کے متعدد اہلکار بھی شامل ہے ۔ادھر ڈلگیٹ کے بچھوارہ علاقے میں بھی نوجوانوں نے فورسز کے کیمپ پر سنگبازی کی،جس کے بعد فورسز اہلکار باہر آئے اور نوجوانوں کا تعاقب کرنے لگے،تاہم بعد مین وہاں صورتحال معمول پر آگئی۔ادھر شہر خاص کے کئی علاقوں میں سنیچر کی شام کو اس وقت فورسز پر سنگبازی ہوئی،جب دن بھر تعینات رہنے کے بعد شام کو فورسز نے کیمپوں کا رخ کیا۔ادھر قیصر امین کے رشتہ داروں نے پولیس اور فورسز پر الزام عائد کیا،انہوں نے تعزیت پرسی کیلئے لگائے خیمے میں بھی اشک آوار گولے داغے،جبکہ جب بعد میں تعزیت گزاروں نے فتح کدل سے ڈلگیٹ کا رخ کیا،تو اس وقت بھی پیلٹ سے فائرنگ کی گئی،جس سے کئی خواتین زخمی ہوئیں۔
پائین شہر کی ناکہ بندی
شہری ہلاکت کے پیش نظر سرینگر کے پائین علاقوںمیں کرفیو جیسی صورتحال جاری رہی ۔ سرینگر کے اہم سڑکوں ،پلوں اور چوراہوں پر بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ناکے بٹھاکر متعدد سڑکوں کو خار دار تار کے ذریعے مکمل طور سیل رکھا گیا۔لوگوں کے مطابق ان بستیوں میں چپے چپے پر پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات رہی اور انہوں نے شہریوں کو گھروں سے بھی باہر نکلنے نہیں دیا۔ اس دوران صفاکدل، خانیار، رعناواری، نوہٹہ ،مہاراج گنج، مائسمہ اور کرالہ کھڈ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میںبھی دوران شب ہی لوگوں کی نقل و حرکت پر قدغن عائد کی گئی۔ امکانی مظاہروں کے پیش نظر سرینگر کے بیشتر علاقوں میںپولیس اور نیم فوجی دستوں نے جگہ جگہ ناکے بٹھائے تھے ۔مزاحتمی تنظیموں کی طرف سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر شہر کے لالچوک،مائسمہ،گائو کدل، مدینہ چوک، ریڈکراس روڑ،بر بر شاہ، گھنٹہ گھر، آبی گذر، ریگل چوک ، بڈشاہ چوک اور دیگر ملحقہ علاقوں میں پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات کی گئی تھی اور انہیں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار حالت میں رکھا گیا تھا۔سیول لائنز کے حساس پولیس تھانہ مائسمہ میں تار بندی کی گئی تھی ۔سول لائنز کے لال چوک ، بڈشاہ چوک، ریگل چوک ، مولانا آزاد رو،اور دیگر علاقوں میں بھاری پولیس بندوبست کیا گیا تھا اور بڈشاہ چوک میں واقع اکھاڑہ بلڈنگ کے اردگرد بھی پولیس اور سی آر پی ایف کا سخت پہرہ بٹھایا گیا تھا۔
کیس درج
نوہٹہ میں جمعہ کے روز نوجوان کو گاڑی سے کچلنے کے واقعہ سے متعلق پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے ۔پولیس نے احتجاجی مظاہرین کی جانب سے فساد بپا کرنے کے حوالے سے بھی مقدمہ درج کیا ہے ۔ایس ایس پی سرینگر امتیاز اسماعیل کا کہنا ہے کہ نوہٹہ میں جمعہ کے روز پیش آئے واقعہ کا سنجیدہ نوٹس لیا گیا ہے ۔ان کا کہناتھا کہ نوہٹہ واقعہ سے متعلق 2 مقدمات درج کئے گئے ہیں جبکہ مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ نوہٹہ واقعہ سے متعلق 2علیحدہ علیحدہ ایف آئی آر پولیس تھانہ نوہٹہ میں درج کی گئیں ۔ایک ایف آئی آر زیر نمبر18/2018زیر دفعہ307،148،149،152،336،427آر پی سی درج کیا گیا جبکہ دوسراایف آئی آر زیر نمبر19/2018زیر دفعہ279(ریش ڈرائیورنگ)337آر پی سی درج کیا گیا ۔
انٹرنیٹ منقطع
انتظامیہ نے احتیاطی طور پر وسطی کشمیر کے3 اضلاع سری نگر، بڈگام اور گاندربل میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کی گئیں۔جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو ہی قیصر امین کے جان بحق ہونے کی خبروں کی گشت کے ساتھ ہی ان اضلاع میں انٹرنیت سروس کو معطل رکھا گیا،تاہم سنیچر سہہ پہر کو انٹرنیت سہولیات بحال کی گئی۔اس دوران بارہمولہ بانہال ریل سروس بھی معطل رہی۔