کولگام+کرناہ+کپوارہ// کرناہ کے شمس بری پہاڑ کے نزدیک ایگل پو سٹ پر 9روز قبل مارے گئے 5 جنگجوئوں میں سے 2 کی شناخت پلوامہ اور کولگام کے لاپتہ نوجوانوں کے بطورہوئی ہے اور دونوں نوجوانوں کے اہل خانہ نے تصاویر دیکھ کر انکی شناخت کرلی ہے۔پولیس نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ مدثر کی شناخت کرلی گئی ہے اور شیراز احمد کی شناخت کی جارہی ہے۔25اور 26مئی کی درمیانی رات کرناہ کے شمس بری پہاڑ کے متصل فوج نے اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ 20جاٹ رجمنٹ سے وابستہ اہلکاروں کیساتھ شدید جھڑپ میں 5جنگجو مارے گئے جن سے ایک 303رائفل بھی بر آمد کرلی گئی ہے۔ اس تصادم آرائی کے بارے میں ٹنگڈار بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈئر پی کے مشرا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پانچ جنگجو مارے گئے جو دراندازی کرنے کی کوشش میں تھے۔دوسرے دن مذکورہ جنگجوئوں کو اوقاف کمیٹی بڈون کے سپرد کیا گیا جنہوں نے انہیں سپرد خاک کیا۔اب لاجورہ پلوامہ اور پاری گام کولگام کے دو کنبوں نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کسی طرح اس بات کی عملیت ہوچکی ہے کہ ان کے دو لخت جگر کرناہ سرحد پر جاں بحق ہوئے ہیں جنہیں عدم شناخت سمجھ کر بڈون کرناہ میںسپرد خاک کیا گیا ہے۔لاجورہ پلوامہ کے شیراز احمد شیخ ستمبر 2017سے لاپتہ تھا جبکہ پاری گام کولگام کے مدثر احمدبٹ مارچ 2017سے لاپتہ تھا۔دونوں کے اہل خانہ نے بتایا کہ انہیں جب اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے پہلے پلوامہ اور شوپیان پولیس سے رابطہ قائم کیا اور اسکے بعد اتوار کو کپوارہ کا رخ کیا۔کپوارہ پہنچ کر انہوں نے پولیس افسران سے بات کی جنہوں نے انہیں کرناہ بھیج دیا تاکہ وہاں پولیس کے پاس موجود تصاویر دیکھ کر وہ پہچان کر سکیں۔ ایس ایچ او کرناہ نے کشمیر عظمیٰ کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ شام کے وقت کولگام کے مدثر احمد بٹ ولد غلام محمد بٹ کی شناخت اسکے بھائی شبیر احمد اور دیگر 6اہل خانہ نے کی۔شبیر احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ26مارچ 2017کو مدثر اپنے ایک دوست کی شادی میں شرکت کیلئے دلی گیا ہوا تھا، اسکے بعد دلی میٹرو سٹیشن سے آخری بار اس نے اہل خانہ سے فون پر بات کی تھی اور تب سے اسکے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا۔شبیر نے کہا کہ مدثر فزئیکل ایجوکیشن میں بحثیت ٹیچر تھا اور 2010میں سرکاری ملازمت اختیار کئے ہوئے تھا۔اسکی ڈیوٹی گورنمنٹ مڈل سکول شر پورہ میں تھی۔انہوں نے کہا کہ مدثر نے گھر سے نکلنے کے بعداپنا پاسپورٹ بھی ساتھ لیا تھا۔شبیر نے کشمیر عظمیٰ کو مزید بتایا کہ دو روز قبل جب وہ نماز تراویح پڑھ رہا تو نامعلوم افراد ، جو اردو میں بات کررہے تھے نے اسے مسجد سے باہر بلایا اور یہ اطلاع دی کہ اسکا بھائی کرناہ جھڑپ میں جاں بحق ہوگیا ہے۔لاجورہ پلوامہ کے شیراز احمد کی شناخت سے 16افراد دیر رات گئے کرناہ پہنچ گئے اور انہوں نے شیراز احمد کی شناخت کرلی ہے۔شیراز احمد پرائیویٹ ویڈیو گرافر تھا،جوستمبر 2017 کو گھر سے لاپتہ ہوا تھا۔ایس ایچ او نے کہا کہ شناخت کے بعد قانونی لوازمات پورا کرنا پڑیں گے۔پولیس اور ضلع انتظامیہ کپوارہ کا کہنا ہے کہ شناخت ہونے کی صورت میں مجسٹریٹ سے درخواست کرنا پڑے گی اور اجازت ملنے پر ہی قبر کشائی کی جاسکتی ہے جس کے بعد ڈی این اے لیا جائیگا۔دریں اثناء پلوامہ میں شیراز احمد کی ہلاکت کے فوراً بعد نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرے شروع کئے۔اسکے بعد فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں۔ادھر پاری گام کولگام میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ہڑتال رہی۔