سرینگر//فوجی افسر میجر گگوئی کو12روز قبل ایک دوشیزہ کے ہمراہ سرینگر کے ہوٹل میں مشکوک حالات میں حراست میں لینے کے معاملے پر شکایت گزار کے وکیل نے عدالت سے اس واقعہ کی مزید تحقیقات پر زور دیتے ہوئے انسانی سمگلنگ کے پہلو کے حوالے سے سمیر ملہ کے کردار کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی ہے ۔ انسانی حقوق کارکن اور انٹرنیشنل فورم فار جسٹس چیئرمین محمد احسن اونتو کی طرف سے اس معاملے میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد پولیس نے چیف جوڈیشل مجسٹریت سرینگر کی عدالت میں گزشتہ دنوں رپورٹ پیش کی۔ شکایت گزار کے وکیل ایڈوکیٹ بلال نے پیر کو چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر کی عدالت میں اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا’’ یہ انسانی سمگلنگ کا معاملہ ہوسکتا ہے،اور حقائق کو منظر عام پر لانے کیلئے اس میں مزید تحقیقات کی جانی چاہیے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ اگر ہم دو لوگوں(میجر گگوئی اور دوشیزہ) کی نزدیکیوں کا اعتراف کرتے ہیں،تو سمیر ملہ کا رول کیا ہے۔ایڈوکیٹ وانی نے عدالت کو بتایا’’پولیس نے اس کیس میں سنجیدگی نہیں دکھائی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دوشیزہ کو بڈگام سے سرینگر لانے میں سمیر ملہ کے کردار کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا’’ پولیس نے جو تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کیا،وہ مشتبہ ہے۔سمیر ملہ کا رول مشکوک ہے،جس کو چھیڑا نہیں گیا(پولیس تحقیقات میں)۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پولیس نے اس پہلو سے نہیں دیکھا کہ کہیں یہ انسانی سمگلنگ کا معاملہ تو نہیں ہے۔ ایڈوکیٹ وانی نے عدالت میں کہا کہ کورٹ کو اختیارات حاصل ہیں کہ وہ پولیس کو اس معاملے میں مزید تحقیقات کی ہدایت دیں،جبکہ پولیس رپورٹ کو ’’سچائی کی بائبل‘‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔عدالت نے اس کیس کی شنوائی12جون کو مقرر کی۔