واشنگٹن// امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کی وجہ سے سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقد ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں امریکی وفد کی شرکت منسوخ کردی۔ خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارہ سینڈز نے اس حوالے سے جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ 8 لاکھ وفاقی ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے امریکی صدر نے عالمی اقتصادی فورم میں اپنے وفد کی شرکت منسوخ کردی ہے۔ امریکا میں جاری جزوی شٹ ڈاؤن کی وجہ سے قانون سازوں اور ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کے سفر کرنے پر شکوک و شبہات سے متعلق یہ حالیہ پیش رفت ہے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر نے گزشتہ برس عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کی تھی تاہم حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کی وجہ سے چند روز قبل انہوں نے رواں برس فورم میں خود شرکت نہ کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کا دورہ افغانستان منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ نینسی پیلوسی نے امریکی صدر سے حکومتی شٹ ڈاؤن ختم ہونے سے قبل 29 جنوری کو قوم سے اسٹیٹ آف دی یونین کا خطاب منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی ایوان نمائندگان میں انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نینسی پیلوسی کے دورہ برسلز اور افغانستان سے متعلق فیصلہ ہر لحاظ سے مکمل غیر ذمہ دارانہ ہے‘۔ اس حوالے سے کیلی فورنیا کے ڈیموکریٹس اراکین نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ ایسا ظاہر کر رہے ہیں جیسے وہ پانچویں جماعت میں ہیں، ہم صدر کے اقدامات کا جائزہ لیتے رہیں گے‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نینسی پیلوسی کا دورہ منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ ملٹری طیارے کو مصر، برسلز اور افغانستان کے دورے پر جانے سے انکار کر رہے ہیں‘۔ نینسی پیلوسی کے ترجمان ڈریو ہامل نے ٹویٹ کیا کہ 'افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے میں برسلز میں رکنا شامل تھا، لیکن اس دورے میں مصر شامل نہیں تھا۔