بیونس آئرس//وینز ویلا کی حکومت نے اپنے ملک کے فوجی اہلکاروں کے خلاف امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنوبی امریکی ملک میں چل رہے سیاسی بحران کے درمیان بغاوت بھڑکانے کی امریکی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے ۔ امریکہ نے جمعہ کو وینزویلا کے خلاف اپنی پابندیوں میں توسیع کرتے ہوئے اس کے قومی سکیورٹی فورسز کے کمانڈر سمیت چھ فوجی اہلکاروں پر پابندی عائد کی ہے ۔ وینز ویلا کے وزیر خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا‘‘ وینزویلا جمعہ کو امریکی حکومت کی جانب سے ہمارے ملک کے فوجی اہلکاروں پر پابندیاں عائد کرنے کے علان کا واضح طورپر مخالفت کرتاہے ،یہ پابندی وینزویلا میں آئینی طور پر منتخب صدر نکولس مادرو کی حکومت کے خلاف بغاوت بھڑکانے کے لئے امریکہ کی کمزور حکمت عملی کا حصہ ہیں’’۔ وزارت نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا ہدف وینزویلا کے فوجی محب وطنوں کو اپنے ملک کے آئین، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حفاظت کے لئے نقصان پہنچانا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ امریکہ نے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے وینزویلا کے فوجی اہلکاروں کو رشوت دینے اور ان پر دباؤ ڈالنے کے لئے انہیں ڈرانے کی کوشش کی ہے ۔ وزارت نے کہا‘‘ وینزویلا کی حکومت بین الاقوامی برادری کی طرف سے وینزویلا کے خود مختار لوگوں پر ان سامراجی حملوں کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بنیادی اصول اور مقاصد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتی ہے ۔جمعہ کو نئی پابندیاں لگانے کے بعد امریکی محکمہ مالیات نے کہا کہ امریکہ نے یہ فیصلہ 23 فروری کو وینزویلا میں امریکہ کی انسانی امداد کو پہنچانے کی کوشش میں رخنہ ڈالنے کے جواب کے طور پر لیا گیا ہے ۔ محکمہ مالیات کے سیکریٹری سٹیون مینچن نے کہا ہے کہ امریکہ مسلسل پابندی لگا کر مسٹر مادرو کے حمایتوں کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا۔ یو این آئی