ہندوستان میں اس وقت پارلیمانی الیکشن کا دور چل رہا ہے۔ ہر پارٹی دوسرے پر سبقت حاصل کرنے میں لگی ہے مگر لگتا ہے کہ زیادہ تر اُمیدوار صرف کرسی کے لیے لڑر ہے ہیں اور کسی کو عوام کی پریشانیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ عوام بھی پریشان ہیں کہ وہ ہندوستان کاوزیراعظم کس پارٹی کا منتخب کریں ۔ ہندوستان کوایسے وزیر اعظم کی ضرورت ہے جو ملک کو ترقی کی راہ پر لے جائے ، جو ملک کی عوام کے مسائل حل کریں ،بے روزگاری کا خاتمہ کریں، میعاری تعلیم کا نظم کریں، ہندوستان میں پھیل رہی مذہبی نفرت اور سماجی نابرابری کو دور کریں مگرآج الیکشن میںکھڑا اُمیدوار اپنے آپ کو چوکیدار کہتا ہے ۔ کیا ہندوستانی عوام کو چوکیدار کی ضرورت ہے یا وزیر اعظم کی ۔ چوکیدار صرف چوکیداری کرسکتا ہے ،ملک کیسے چلائے گا؟ وزیر اعظم جیسے با وقار عہدہ کو چوکیدار کہنا اس عہدے کا وقار مجروح کرنا ہوتاہے ۔کیا ایک چوکیدار ملک کے مسائل کا حل تلاش کرسکتا ہے؟وزیر اعظم ملک کی ترقی میں پیش آنے والے مسائل کا حل تلاش کر اُن مسائل کو دور کرسکتاہے ؟ملک کے بہتر مستقبل کے لیے تعلیمی نظام بہتر سے بہتر بنا سکتا ہے تاکہ طلبہ معیاری تعلیم حاصل کر ملک اور سماج کی ترقی میں مدد کر سکیں ؟ملک جب تک ترقی نہیں کر سکتا تب تک اُس ملک کا تعلیمی نظام میعاری نہ ہو۔بے روزگار نوجوانوں کو روز گار دلوانے اور ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے مختلف ذرائع بناتا ہے ۔کسانوں کے مسائل کا حل تلاش کرتا ہے۔ کوئی چوکیدار کیسے ان کاموں کو انجام دے گا وہ تو صرف چوکیداری کا ہی تجربہ رکھتا ہے ۔
الیکشن کے دور میں ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے رہنما کا انتخاب کریں جو عوامی مسائل کو حل کرسکے۔ نوجوانوں میں محنت کرنے کا جذبہ پیدا کرسکے ۔ کسان جو خودکشی کررہے ہیں، اُن کے مسائل کا حل تلاش کرسکے ، انہیں خود اعتمادی دے اور نئی تکنیکوںسے واقف کرواسکے۔ جدید آلات کے استعمال سے کھیتی کس طرح آسان ہوتی ہے، ا س کی ترغیب کھیتی کسانی والوں کودلوائے۔ عوام کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے مختل کیمپ کاانعقاد کروائے، طلبہ کی میعاری تعلیم کا بندوبست کروائے۔ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ۔جمہوریت کے ا صولوں پر عوام اپنا رہنما منتخب کرتے ہیں ۔ جو رہنما منتخب ہوکر آئے وہ عوام کے مسائل کو دور کرنا تو دور کی بات رہی لوگوں میں نفرت پھیلانے کا کام کرے جس سے ملک دو حصوں میں بٹا جا رہا ہو، جس کی وجہ سے اس جمہوری ملک کی جمہوریت کو خطرہ محسوس ہورہا ہو، ہمیںایسے امیدوار کو قطعی اپنا قومی یا علاقائی رہنما منتخب نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کا ساتھ دینا چاہیے جو سماج میں رہنے والے تمام مذاہب اور افکار ماننے والو ں کو ایک ساتھ لے کر چلانے کا فن جاننے والا ہو۔ وہ ہر شہری کا محافظ ہو ، ہرا صول کا پابند ہو ، ہر مذہب کا اآ در کر تاہو ، پریم کی بھاشا بولتا ہو ، ہمسایہ ممالک کے ساتھ صلح سمجھوتے سے رہنے سہنے کااُپدیش دیتا ہو، سچائی کا ساتھ نا دینے والا ہو۔ ملک میں کچھ لوگ ایسے بھی ہے جنہیں کمر توڑ مہنگائی کے ا س زمانے میںدو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ، ایسے لوگوں کے لیے اپنا رہنما آگے آکر انصاف کے ساتھ ایسے ذرائع پیدا کرنے والا ہو تاکہ غریبو ں کے مسائل بہ احسن حل ہو ںمگر افسوس کہ ہمارے زیادہ تر رہنماؤں کو صرف اپنی کرسی سے محبت ہے، وہ اپنی کرسی پانے اور پانے کے بعد اس پر دائمی قبضہ جمانے کے لیے عوام کو مختلف طریقوں سے بہکاتے ہیں، سنہرے سپنے دکھاتے ہیں ، دھوکے دیتے ہیں ، جھوٹے وعدے کرتے ہیں ، ہمیں ایسے نیتاؤں اور امیدواروں کو شکست دینی چاہیے ۔ الغرض ہما را رہنما ایسا ہوجو نوجوانوں کو جینے کی راہ دکھائے اور بلا تمیز مذہب وملت ،قوم وزبان عوام کے بہتر مستقبل کے لیے بارآور کوششیں کر یں اور جن گھمبیر مسائل میں لوگ الجھے ہوئے ہیں اُن کا حقیقت پسندانہ نپٹارا کرے اور یہ کہتا نہ پھرے کہ میں اس دیش کا چوکیدار ہوں جب کہ اس چوکیدار کی ناک کی سیدھ میں نیرو مودی ، للت مودی ، وجے مالیہ ، امبانی ، اڈانی کے وارے نیارے ہورہے ہوں اور جنتا پس رہی ہو ۔ اب کی بار عوام کواس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ قوم کا سربراہ کام کا ہو جملہ باز اور عوامی بٹوارے کا عادی نہ ہو۔
9960265862