جب سے 2019 کے پارلیمانی انتخاب کا بگل بجا ہے، ذہن میں رہ رہ کر راحت اندوری کا یہ شعر گونج رہا ہے ؎
سرحدوں پر بہت تنائو ہے کیا؟
کچھ پتا تو کر و چُنائوہے کیا؟
پلوامہ خود کش حملہ، بالا کوٹ فضائی حملہ، ابھینندن کی پاکستان کے ہاتھوں گرفتاری، بعد ازاں اس کی رہائی، پاکستانی خدشات کہ بھارت پھر سے حملہ کرے گا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ ساری صورتحال راحت اندوری کے شعر کی سچائی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔
2014 میں نریندر مودی نے وکاس یعنی ترقی کا نعرہ دے کر ایک زبردست جیت درج کروالی تھی۔ لیکن اب کی بار صرف جنگ، سرجیکل اسٹرائیک، آتنک واد، دفعہ 370، 35 A جیسے مُدے ہی اُٹھائے جا رہے ہیں۔ فوجیوں اور حفاظتی دستوں کا واسطہ دے کر، پلوامہ میں مارے گئے جوانوں کا واسطہ دے کر لوگوں سے ووٹ مانگے جارہے ہیں۔ ایسا اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ جس وکاس کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ وکاس فقط امبانی کے گھر تک ہی محدود رہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد اب تک مودی نے کسی کو سوال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ من کی بات کا پلیٹ فارم استعمال کرکے صرف اپنے من کی کہتے رہے یہ جانے بنا کہ جن لوگوں نے اُنہیں اپنا ووٹ دے کر یہ رتبہ دیا ہے، اُن کے من میں کیا ہے۔
نوٹ بندی پر کسی نے اگر آواز اُٹھانے کی کوشش کی تو اُسے کالا دھن والوں کا حمایتی قرار دیا گیا، جی ایس ٹی پر کوئی زُ بان کھلی تو اُسے وکاس دشمنی کا طعنہ دے کر خاموش کر دیا گیا، رافیل ڈیل پر کسی نے لب کشائی کی تو اُس پر دفاعی فورسز کا منو بل توڑنے کا الزام لگایا گیا، پلوامہ خود کش حملے پر کسی نے سوال اُٹھایا تو اُسے ملک دشمن گردانا گیا، با لا کوٹ فضائی حملے پر کسی نے وضاحت طلب کی تو اُس پر پاکستانی ہونے کا الزام لگایا گیا۔
’وکاس پُرش‘ مودی کو جب لگا کہ اُنکے وکاس کے نعروں کا کھوکھلا پن بے نقاب ہو چکا ہے تو اُنہوں نے پاکستان اور آتنک واد کی ڈفلی بجانا شروع کردی۔ کانگریس اور دیگر مخالف جماعتوں نے جب بھی کوئی مُدا اُٹھانے کی کوشش کی تو اُن پر پاکستانی لاٹھی کا استعمال کیا گیا۔ بکائو میڈیا اور سوشل میڈیا پر جنگ و جدل کے حوالے سے ایسی چیخ و پکار شروع کروائی گئی جس کے شور میں اصلی معا ملات کو دفن کرنے کی کوشش کی گئی۔ ٹی وی اسٹیڈیوئوں کو جنگی میدانوں میں تبدیل کرے جھوٹ اور فریب کاری کے میزائیل اس لئے داغے گئے تاکہ اُن کے شور سے عام ہندوستانیوں کے کان اس حد تک بہرے ہوجائیں کہ اُن کو اصلی اور بنیادی معا ملات کی بھنک بھی نہ لگ سکے۔
اسی شور و غل میں بی جے پی کے ایک بہت ہی بڑے رہنمالال کشن ایڈوانی نے پانچ سال کے بعد پہلی بار زبان کھولی۔انہوں نے ایک بلاگ لکھا جس میں اُنہوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے کہا کہ اُن کی پارٹی نے کبھی بھی اپنے ناقدین اور سیاسی مخالفین کو ’ملک دشمن ‘ نہیں سمجھا۔اُنہوں اپنی پارٹی سے مخا طب ہوتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے لوگوں کا چاہئے کہ وہ ماضی کو نظر میں رکھیں، مستقبل کی طرف دیکھیں اور خود احتسابی کا جذبہ پیدا کریں۔ایڈوانی کے اس بلاگ سے صاف طور سے یہ عندیہ مل رہا ہے کہ بی جے پی کے اندر بھی لوگ ہیں جو مودی کے طریقہ کار سے متفق نہیں لیکن مودی اور اُن کے بھگتوں نے اس حد تک قوم پرستی کے معنی بدل دئے ہیں کہ ایڈوانی جیسے سینئر لیڈر کو بھی کچھ کہنے کی ہمت جُٹانے میں پانچ سال لگ گئے۔ یہ وہی ایڈوانی ہیں جنہوں نے بابری مسجد کے حوالے سے رتھ یاترا نکال کر ملکی سطح پر بی جے پی کو ایک بڑی سیاسی قوت کے طور اُبھارنے میں بہت بڑا رول ادا کیا۔ لیکن آج اُن کو پارٹی کے معا ملات سے مکھن میں بال کی طرح نکال پھینکا گیا ہے اور ان کو اپنے من کی بات کہنے کے لئے بلاگ کا سہارا لینا پڑا۔
مودی 2014 میں جو وعدے کرکے اقتدار میں آئے تھے ،وہ پورے نہیں ہو پائے۔ بوکھلاہٹ میں اس ’وکاس پُرش‘ نے فوج کی بیساکھی کا سہا را لیا۔ وکاس، وکاس کے بجائے اب کی بار وہ صرف ویر جوان، ویر جوان کی بات کر رہے ہیں۔ اور جب ویر جوان الیکشن کا منتر بن جائے تو پاکستان کو گالی دینا لازمی بنتا ہے اور اُس سے بھی لازمی بنتا ہے اپنے مخالفین کو پاکستانی ہونے کا طعنہ دینا۔ یہی مودی جی کر رہے ہیں۔ فوجی بیساکھیوں کا سہارا لے کر اپنے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز کو وہ پاکستانی بولی جتلاتے ہیں۔
لیکن بھلا ہو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا۔ انہوں نے یہ کہہ کر کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں مودی سرکار دوبارہ بر سر اقتدار آجائے، مودی کے ’شیر آیا، شیر آیا‘ غبارے سے ہوا خارج کردی۔ مودی بار بار یہ کہا کرتے تھے کہ راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن لیڈروں کے بیانات پر بھارت میں نہیں بلکہ پاکستان میں تالیاں بجتی ہیں۔ لیکن عمران خان نے واضح کردیا کہ وہ اگر کسی سرکار کے حمایتی ہیں تو وہ صرف بی جے پی کی سرکار ہے۔اگر یہ بات عمران خان نے راہل، مایا وتی، ممتا بینرجی یا کسی اور لیڈر کے بارے کہی ہوتی تومودی جی نے این آئی اے، سی بی آئی اور نہ جانے کون کون سی ایجنسی کو ان لیڈروں کے گھروں پر ہلہ بولنے کا حکم دیا ہوتا اور ان ایجنسیوں نے اب تک آئی ایس آئی سے جُڑا ’قابل اعتراض مواد‘ بر آمد کرنے کا دعویٰ بھی ٹھوک دیا ہوتا۔ لیکن یہ چونکہ خود مودی کے بارے بیان آیا ہے، اس لئے اُنہوں نے اور اُن کے بھگتوں نے چُپی سادھ لی۔
خیر، الیکشن کا پہلا مرحلہ ہوچکا، 91نشستوں پر ووٹنگ ہوچکی ہے۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ جس طرح ’وکاس پُرش‘ مودی نے 2014 میں وکاس کا نعرہ لگا کر مشاعرہ لُوٹ لیا تھا، کیا اب کی بار فوجی بیساکھیوں کے سہارے ویر جوان کا نعرہ بلند کرکے وہ کوئی چمتکار دکھا پاتے ہیں یا نہیں۔
ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر