پیشاب میں جلن یہ ایک عام شکایت ہے۔ پیشاب کی جلن بچوں اور عمردراز خواتین اور حضرات میں بھی پائی جاتی ہے۔ پیشاب کی جلن کی وجہ سے کئی مرتبہ کئی افراد کو پیشاب کنٹرول کرنے میں بھی مشکل ہوتی ہے۔ پیشاب میں جلن پیشاب کرنے سے پہلے یا بعد کسی وقت بھی ہوسکتی ہے۔
پیشاب پرقابو نہ رہنا:۔ یہ شکایت عمر کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کو انجانے میں پیشاب خارج ہوجاتاہے اور کبھی کبھی قطرے بھی خارج ہوتے ہیں۔ عام طورسے 40؍سال سے زیادہ عمر والی خواتین، مردوں میں یہ شکایت پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے زور سے چھینکنے پر، ہسنے اور رونے پر، اٹھنے اور بیٹھنے پر بھی اس دشواری کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
پیشاب کا باربار آنا:۔ پیشاب کا باربار آنا، مکمل طور سے پیشاب کا نہ ہونا، رُک رُک کر اور قطرے قطرے میں آنا، ان ساری شکایات کو بہت سارے افراد پیشاب کے باربار آنے سے جوڑتے ہیں اور اس چیز سے پریشان افراد شرمندگی بھی محسوس کرتے ہیں۔ کئی افراد کو یہ تکلیف رات کے وقت زیادہ ہونے سے نیند میں خلل پیدا ہوتاہے۔
وجوہات :۔ ان ساری دشواریوں کی وجوہات بچوں، جوانوں اور بزرگوں میں مرد اور خواتین میں مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔ لیکن انفیکشن یا Urinary System میں کئی روکاں، زخم، آبلہ (Cyst) سوزش وغیرہ وجوہات پائی گئی ہیں۔
پروسٹیٹ: پروسٹیٹ غدود کی سوزش جس کو Prostatic Enlargement کہاجاتا ہے ۔ پروسٹیٹ کے بڑھنے سے پیشاب کی تھیلی (Bladder) پوری طرح سے خالی نہ ہونا، یہ مردوں میں پائی جانے والی پیشاب کی تکلیف کی عام وجہ ہے۔
Urethral Structure:۔ پیشاب کی نالی کا سکڑنا یا پیشاب کی نالی میں سوزش یا سوجن، پیشاب کی تھیلی (Bladder) کی کمزوری سے بھی پیشاب کی دشواریاں پیش آسکتی ہیں اور شکایت یہ عام طور سے خواتین میں پائی جاتی ہے لیکن مردوں اور بچوں میں یہ شکایت ہوسکتی ہے۔ Urinary System میں اور کوئی بھی سرطان (Cancer) ہونے سے بھی پیشاب کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
ہومیوپیتھی علاج:۔ ہومیوپیتھک علاج سے پیشاب کے تعلق سے بہت سی شکایات کو دور کیا جاسکتاہے۔ ہومیوپیتھی علاج میں پیشاب کے نظام پر کنٹرول رکھنے والی دواؤں کا صحیح استعمال، صحیح قوت میں لینے سے درست ہوتاہے۔ آپریشن دوسری دوائیاں لینے سے ہونے والے مضرا ثرات کو ختم کرنے میں ہومیوپیتھی کی دوائیاں سے مدد کرتی ہے۔ ہومیوپیتھی کی 25 دوائیاں ہیں جن کو دینے سے پہلے مریض کا مزاج پہچاننا، مرض کو پہچاننا اور دوا کی مقدار کا انتخاب کرنا ان ساری چیزوں کا خیال رکھا جاتاہے۔ ایک تجربہ کار ہومیوپیتھی ڈاکٹر آپ کو مدد کرسکتاہے۔ ����