کشمیر کی متنازعہ اور ایڈہاک سیاست میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کئی تجربے کئے گئے۔کبھی عسکریت پسندوں کو ’’گمراہ نوجوان‘‘ قرار دے کر ان کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے نام پر ووٹ لئے گئے، کبھی حریت کانفرنس کو تباہی کی علامت جتلا کر الیکشن لڑے گئے اور کبھی بھارت کی ترقی میں مناسب حصہ پانے کی آڑ میں ووٹروں کو پولنگ بوتھ کی طرف ہانکا گیا۔
بجلی ، پانی اور سڑک کے نام پر جس بھی ملک میں الیکشن لڑا جاتا ہے، مغرب میں اُسے تیسری دنیا کا شکست خوردہ ملک کہا جاتا ہے۔ بھارت ستر سال سے ایک آزاد مملکت ہے اور اب خود کو امریکہ اور چین کے ہم پلہ ایک سپرپاور سمجھتا ہے، لیکن بھارت کی تقریباً سبھی ریاستوں میں آج بھی ووٹ بجلی، پانی ، سٹرک اور روزگار کے لئے لیا جاتا ہے۔یہی کشمیر میں بھی ہوتا آیا ہے۔ لیکن اس بار کچھ نیا ہورہا ہے۔
پارلیمانی انتخابات یوں بھی کشمیر یا دلی میں اہم نہیں ہوتے۔ محض چھہ سیٹیں دلی میں اقتدار سازی پر اثرانداز نہیں ہوسکتیں۔ لیکن پورے ملک میں کشمیر کے نام پر الیکشن لڑا جارہا ہے اور خود کشمیر کے سیاسی لہجوں میں غیرمعمولی تبدیلی آگئی ہے۔ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی گویا لہجوں کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ جہاں فاروق کہتے ہیں کہ دفعہ 370کے ساتھ چھیڑا گیا تو کشمیر بھارت سے علیحدہ ہوجائے گا وہیں محبوبہ مفتی گورنرانتظامیہ کوجنگل راج، فوجی کارروائیوں کو مارشل لا اور قیدخانوںکو امریکی جزیرہ گوانتانامو پر واقع بدنام زمانہ جیل قرار دے رہی ہیں۔
محبوبہ تو یہاں تک دعویٰ کرتی ہیں کہ مودی کو اب انتخابی شکست کا احساس ہوگیا ہے لہذا وہ پاکستان پر بالاکوٹ جیسا دوسرا حملہ کرنا چاہتا ہے۔
یہ سبھی لہجے علیحدگی پسندوں کا ڈومین ہوا کرتے تھے۔ چونکہ حریت کانفرنس عیاں وجوہات کی بنا پر انتخابات سے دُور ہے، عوامی بیزار ی کے شکار مین سٹریم حلقے حریت کا لہجہ چرا کر ووٹ بٹورنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ نیم علیحدگی پسند لہجوں سے الیکشن جیتا جاسکتا ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اگرکشمیر میں انتخابات خالص انتظامی امور چلانے اور لوگوں کو مناسب سہولات اور روزگار فراہم کرنے کے لئے ہیں ، تو اہل اقتدار جذباتیت اور لفاظی سے کیوں کام لے رہے ہیں۔
؎لہجوں کی جو یہ دوڑ ہے، اس سے دو باتیں صاف ہوجاتی ہیں۔ ایک یہ کہ کشمیری آبادی کا جو بھی حصہ ووٹ دیتا تھا، وہ بھی اہل اقتدار کی دوئی اور فریب کاریوں سے اُکتا چکا ہے، لہذا اہل اقتدار طبقہ ووٹروں کو رجھانے کے لئے انقلابی پہلوان کی وردی پہن کر دلی والوں کو للکارتا ہے۔دوسری بات یہ کہ سسٹم سے لوگوں کی بیزاری اور اہل اقتدار کی کھوکھلی لفاظیت سے کشمیر میں بنیادی سہولت کا فقدان پیدا ہوگا، روزگار کے مواقع محدود ہوجائیںگے اور کرپشن مافیا پہلے زیادہ طاقت ور بن جائے گا۔ یہ بات دلی والے بھی جانتے ہیں۔ ورنہ یہ کیا بات ہوئی کہ کسی نے حق خود ارادیت کی بات کی تو اسے جیل میں ڈال دو، اور کوئی اور بھارت سے الگ ہونے کی دھمکی بھی دے تو اس کی انتخابی ریلی کو سیکورٹی فراہم کرو!
مزاحمتی قیادت چونکہ خود دیرنیہ کنفیوژن کا شکار رہی ہے، اہل اقتدار طبقہ جب چاہے کشمیر کی بیش قیمتی قربانیوں کو اقتدار کی منڈی میں بیچ کھاتا ہے۔ جو لوگ کشمیر پر ہورہے مظالم کے سہولت کار رہ چکے ہوں، جو لوگ کشمیر کو حاصل آئینی اختیارات کا سودا کرچکے ہوں، جو لوگ کشمیر کی انتظامیہ کو دلی کے یہاں رہن رکھنے میں کوئی بھی کسر اُٹھا نہ رکھیں، وہی لوگ جب روزگار اور تعمیرو ترقی کے نعرے کو کوڈے دان میں ڈالتے ہوئے غالب لہجوں کی بیساکھی تھام کر مسندِاقتدار کی طرف مارچ کریں تو حساس عوامی حلقوں کو کوفت محسوس ہونا قدرتی امر ہے۔
اگر واقعی فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے دل موجودہ صورتحال سے رنجیدہ ہیں، تو منطقی ردعمل یہ ہونا چاہیے تھا کہ انتخابات جیتنے کے بعد وہ کہتے کہ جب تک قیدیوں کور ہا نہیں کیا جاتا ہے ہم پارلیمنٹ نہیں جائیں گے، جب تک پی ایس اے اور افسپا کو ختم نہیں کیا جاتا ہم حلف نہیں لیں گے، جب تک بجلی پروجیکٹوں کو واپس نہیں دیا جاتا ہم ایوان کا رُ خ نہیں کریں گے، جب تک حریت رہنماوں کو تقریر و تحریر کی آزادی نہیں دی جاتی ہم لوک سبھا میں قدم نہیں رکھیں گے، جب تک نوجوانوں کا تعاقب بند نہیںکیا جاتا ہم لال بتی والی گاڑی میں نہیں بیٹھیں گے۔ لیکن اقتدار کا تعاقب کرنے والے روایتی سیاستدانوں سے یہ ردعمل متوقع نہیں ہے اور جب تک یہاں کی عبوری سیاست کے اصطبل میں آزمودہ گھوڑے موجود ہیں، کشمیریوں کے احساسات اور آرزؤں کا ایسے ہی استحصال ہوتا رہے گا جیسے آج کل ہورہا ہے۔
ہم اپنے ہی بنائے خول میںاس قدر بند ہیں کہ کوئی خدا کا بندہ لہجوں کے بیوپاریوں سے یہ سوال کرنے کی ہمت نہیں جٹا پائے گا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کی انتظامیہ ایک عبوری ارینجمنٹ ہے، اور انتخابات بہتر انتظامیہ فراہم کرنے، روزگار کے مواقع کو وسیع کرنے، تعلیم اور صحت کے شعبے کو بہتر بنانے اوربیوروکریسی میں شفافیت لانے جیسے وعدوں پر لڑے جانے چاہیے۔جو کچھ یہاں کا اہل اقتدار طبقہ الیکشن کے نام پر بولتا ہے، اُس سے علیحدگی پسندوں کا ایجنڈا ہائی جیک نہیں ہوگا بلکہ علیحدگی پسندی کی کانسچونسی مزید وسیع ہوگی، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا عوام کی غالب اکثریت سیاسی خواہشات اور آرزؤں کے لئے موجودہ مین سٹریم سٹرکچر کو اپنا وکیل تسلیم کرے گی؟ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو کشمیر ایک تاریخی تبدیلی سے گزرنے جارہا ہے۔
ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر