موجودہ ناقص نظام تعلیم پر چل کر نوجوانوں کو صرف ڈگریاں ملتی ہیں جب کہ وہ اپنے مقصد حیات اور معبود برحق سے دور ہوتےجا ر ہے ہیں ۔ اس لئےیہ ایک نہایت اہم سوال ہے کہ وہ کون سا نظام تعلیم ہے جس کو اپنا کر نوجوانان ِ قوم میں ایک اچھی زندگی کا تصور جاگزیں ہو جائے ، وہ عزت ووقار سے جینے کا ڈھنگ سکھیں ، انہیں تہذیب ، شرافت اعتدال وتوازن کی شاہراہ پر سفر کر نے کاحوصلہ ملے کہ جس کے فیضان سے وہ اپنے ملک و قوم اور پوری انسانیت سے بھلائی کا رشتہ جوڑسکیں۔ ہمارے زیادہ ترتعلیمی ادارے قوم اور سماج کو بگاڑنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پار ہے ہیں ۔کسی نے صحیح کہا ہے کہ اگر کسی قوم کو بغیر ہتھیار کے شکست دینی ہو تو ان کے نوجوانوں میں فحاشی عام کردو۔دیکھا جائے تو عریانیت وفحاشی کا سیلاب خدا بیزار نظام تعلیم کی کوکھ سے ہی جنم لیتا ہے اور تعلیمی اداروں کے ذریعے پھیلتا جاتا ہے۔ ظاہر ہے جب اسکول ، کالج اوریونیورسٹی میں اجنبی طلبہ وطالبات کے درمیان ’’دوستی‘‘ کا ماحول بنے تو ان کا فتنوں اور بے راہ رویوں کے دلدل میں پھنس جانا کوئی حیران کن امر نہیں ۔ اسلام کی تعلیم بلاوجہ نہیں ہے کہ ایک عورت کا کسی غیر محرم مرد کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا بہت زیادہ خطرناک ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کوئی مرد کسی عورت سے تنہائی میں نہیں ملتا ہے مگر تیسرا اُن کےساتھ شیطان موجود رہتا ہے ۔ آج کل ہمارے تعلیمی اداروں میں مخلوط نظام تعلیمی نظام کے طفیل لڑکےاور لڑکیاں نہ صرف یہ کہ بآسانی گھل مل جاتے ہیں بلکہ اس اختلاط کے نتائج کتنے بھیانک اور غلیظ ہیں وہ ہم سب پر عیاں ہیں ۔ایسے میں نوجوان پود کا نفسیاتی ، اخلاقی ،روحانی اور معاشرتی طور بر باد ہو نا قدرتی امر ہے ۔ کڑوا سچ ہے کہ غلط نظریہ ٔ تعلیم کو سائنس اور جدیدیت کے نام پر رائج کر کے ہم اپنی شناخت بھی، دین بھی اور ایمان بھی کھو رہے ہیںاور اس سے نہ صرف ہمارے نوجوانوں میں اخلاقی زوال آتا ہےبلکہ وہ اپنے مقصد حیات سے بھی ناواقف محض رہتے ہیں ۔اُن کے لئے’’ زیستن برائے خوردن (زندگی کھانے کےلئے ) نہ کہ ’’ خوردن برائے زیستن‘‘( کھانا زندگی کے لئے) کا اصول کار فر ماہوتا ہے ۔ ایسے نوجوان اپنی قوم سے بھلائی کر نےمیں کبھی معاون ومددگار ثابت نہیں ہو تے بلکہ دھرتی پر بوجھ بنتے ہیں ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں نے جن و انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ۔ عبادت ایک وسیع المفہوم اصطلاح ہے جس میں اللہ کی رضا کے لئے خد مت خلق اللہ کا شعبہ بھی شامل ہے ، بلکہ پاک زندگی ، صالح اعمال، نیک کام اور اچھائی پر چلنا بھی عبادت کا ہی حقیقی ثمرہ ہوتا ہے ۔ اسی لئے زندگی میں ہمہ گیر پاکیزگی اختیار کر نے والے لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامیاب قرار پاتے ہیں۔ ہماار ایمان ہے کہ جس نے اپنے رب کو راضی کر لیا ا سی نے نیا یت الہٰیہ کا حق ادا کیا ۔ یاد رکھئےیہ حق ادائیگی صرف صحیح تعلیم سے ہی ممکن ہے ۔ اسی تعلیم وتربیت کے صدقے نو جوان اپنے نیک خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ لہٰذا جو قوم تعلیم وتدریس کے نور سے کامیاب ہو جائے وہی اقوم عالم میں سب سے اونچا مقام ومرتبہ پاتی ہے۔ اگر ہمیں کامیاب ہو نا ہے تو اللہ کے پسندیدہ اصولوں کے عین مطابق اپنا نظام تعلیم خیر وفلاح اوربہتری کے قالب میں ڈھالنا ہوگا ۔ جب تک زندگی کے حقیقی مقصد سے ہم آہنگ نظام تعلیم ہمارے یہاں رائج نہیں ہوتا ہم میں فہم وشعور اور علم وآگہی آسکتی ہے نہ دنیا امن وامان کا گہوارہ بن سکتی ہے ۔