اُردو ،بر صغیر میں کثرت سے بولی جانے والی زبان ہے۔ جو اپنی جاذبیت و مٹھاس کی وجہ سے دنای بھر میں مقبول ہے۔ برصغیر ہندو پاک میں خصوصاً یہ رابطے کی زبان ہے ۔ ا س خطہ ٔ ارض میں یہ کثرت سے بولی جانی والی زبان کا تشخص رکھتی ہے۔ چناںچہ پاکستان میں اُردو سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے، جب کہ بھارت میں بھی کثیر آبادی یہ زبان بولتی ، لکھتی ، سمجھتی اور باہمی رشتوں رابطوں میں زیر استعمال لاتی ہے۔ ہندوستان میں آزادی سے قبل لگ بھگ تمام ہندو،مسلم، سکھ حتی ٰ کہ عیسائی مذہب سے وابستہ لوگ اُردو پڑھنا لکھنا جانتے تھے اور وہ اپنی ادبی و علمی تخلیقات میں بھی اس پر زیادہ انحصار کر تے تھے ۔
ریاست جموں و کشمیرکی سرکاری زبان ریاستی آئین میں اُردو ہے۔ یہاں کی کثیر لسانی صورت حال کے پیشِ نظر اُردو ایک اہم ضرورت بن گئی تھی اور سچ یہ ہے زمانے کی الٹی گردش کے باوجود سے یہ ضرورت اب بھی بتمام وکمال قائم ہے۔کشمیر، جموں، لداخ کی مقامی زبانیںایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کشمیری، ڈوگری، گوجری ، لداخی،پہاڑی، شنیا اور بلتی کے علاوہ بہت ساری نسلوں،تہذیبوں اور مذہبی اکائیوںسے وابستہ زبانیں مثلاً گوجری‘پشتو‘پنجابی‘ بھدرواہی‘بکروالی وغیرہ، ان تمام زبانوں کے درمیان اُردو کو رابطے کی زبان کا درجہ حاصل ہے۔اس زبان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی بھی علاقے کی مادری زبان نہیں بلکہ سب کی لسانِ مشترک ہے۔ علاوہ ازیں اُردو اس وقت عالمی زبان کا مقام ومرتبہ حاصل کر چکی ہے ۔دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میںآج اُردو پڑھائی جاتی ہے، یہ اب ہندوستان اور پاکستان کی زبان نہیں بلکہ اس زبان کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے ۔
ریاست جموں کشمیر میں ڈوگرہ مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے 1889ء میں دفعہ ؍ 145؍ کے تحت فارسی کو ترک کر کے اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا، سرکار کا سارا کام کاج اسی ز بان میں انجام دیا جاتا تھا۔ اگرچہ ۴۷ء کے مابعد اردو کا یہ درجہ بحال رہا مگر شومئی قسمت سے جموں و کشمیر کے حکمرانوں نے اپنی باری باری پر ا س زبان کے جائز حقوق کی نہ صرف اَن دیکھی کی بلکہ انہیں روند بھی ڈالا۔ یہی روش یہاں کے قائد ین اور نیتاؤں نے بھی اپنا ئی اور یہ سلسلہ اب شدو مد سے جاری ہے ۔ اگرچہ اُردو کو یہاں کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے تاہم اس زبان کا جو بُراحال اپنون اور غیروں کے ہاتھ آج ہمارے سامنے کیا جارہا ہے وہ خون کے آنسورلادینے والا ہے ۔چند سال قبل یہاں بچوں کوبنیادی تعلیم اُردو زبان میں ہی دی جاتی تھی اور آج حال یہ ہے کہ بچوں کااُردو پڑھنا تو دور کی بات اس زبان میں بات کرنا اپنے شایان ِ شان نہیں لگتا اور اُرود پڑھنے لکھنے میں انہیںڈھیر ساری دشواریاںپیش آرہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انتظامی سطح پر حوصلہ شکنیوں کے باوجود عوامی سطح پرا س زبان کا دم خم باقی ہے ۔ البتہ شعوری طور ایسی ناہنجار کا وشیں ہورہی ہیں کہ یہ زبان نہ صرف سرکاری شعبوں میں قصہ ٔ پارینہ ہوجائے بلکہ اجتماعی سطح پر بھی باضابطہ منصوبے کے تحت یہاں کی آبادی کو اس زبان سے دور کیا جا رہا ہے اور خدا گواہ یہ کوئی کرامت ہی ہے کہ اس منفی روش کار کے باوجود آج بھی یہاں اردو کا چر چا علمی ، ادبی ، اصلاحی ، صحافتی، مذہبی حلقوںیں بر قرار ہے۔
یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ اردو اگر چہ کسی مذہب یا طبقے کی زبان نہیں ہے بلکہ اسے غیر مسلموں نے بھی جی بھر کر اپنا پیار دیا ، دُلار دیا مگر اب یہ زیادہ تر مسلمانوںتک محدود ہو چکی ہے ۔ مسلمانوں کا زیادہ ترمذہبی واصلاحی لٹریچر( تفاسیر،احادیث،فقہ ، تاریخ کا وسیع الجہت خزانہ) کا80 ؍فیصداُردو زبان میں ہے ، اس ایک وجہ سے بھی ابھی اُردو زندہ وجاوید زبان بن کر اپنا وجود منوارہی ہے، لیکن افسوس سیاسی اغراض اور ثقافتی یلغار کے سبب نوخیز نسل کی اُردو سے دوری کے لئے منصوبہ بند طریقے پر کام کیا جارہاہے ۔ اس بنا پر یہاں کی نوخیز نسل اپنی جڑوں سے ناآشنا رہ کر مغربی تہذیب کی دلدادہ بنتی جا رہی ہے، اسلامی روایات کو دن دہاڑے دفن کیا جا رہا رہاہے اور اپنے ماضی کے انمول ورثے کو نظر انداز کر نے کے مہیب نتائج سے غافل ہے ۔اُردو زبان کی بدحالی کے لئے یہاں کی حکومتوں اور لیڈروں کو ذمہ دار ٹھہر تے ہیں مگرا س بارے میںیہاں کے ادباء ،شعرا اور اُردو کے نام پر روٹیاں کھانے والوں کا جرم بھی کچھ کم سنگین نہیں ہے۔ جب ہم اُردو کے مروجہ تعلیمی نصاب کی بات کرتے ہیںتو مایوسی ہوتی ہے کہ آج اس مابعد جدیدیت (post modern)دور میں بھی ہمارے اردوطلبہ کو ’’رُخ ِگل سے بلبل کے پر باندھنے‘‘ کو کہا جاتا ہے، الف لیلوی داستانیں ، مافوق الفطرت قصے کہانیاں درساً پڑھائی جاتی ہیں ، بس طوطے کی اسی رَٹ میں مست مولیٰ بنے اردو والے محو نیند ہیں ۔نتیجہ یہ کہ زمانے کے نت نئے تقاضوں سے اُردو کے نصاب کو ہم آہنگ کر نے کے لئے اس میں کبھی کوئی صحت مند تبدیلی کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جا رہی ہے ۔اسی طرح سے اُردو کے نام پر ایک ایسا خودغرض ولالچی طبقہ ریاست میں کام کر رہاہے جس کو ’’اُردو مافیا‘‘(urdu mafia) کے لقب سے پُکارا جا نا کوئی گالی نہیں ہے۔اس اردو فروش طبقے نے کبھی سنجیدگی سے اُردو زبان و ادب کی اشاعت و فروغ کے لئے کوئی کام نہیں کیا ،کبھی اُردو زبان سے محبت رکھنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی، بس اپنا نام اورمال کمانے کے لئے اس زبان کا ہر سطح پر استحصال کر رہے ہیں ۔ اسی طرح سے ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زندگی سے معمور اس شریں زبان کے پروفیسر صاحبان( موٹی موٹی تنخواہیں اُچک لینے کے باوجود ) طلبہ کو اس زبان کی اہمیت و افادیت کا قائل وحامی بنا نے کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی کے مرتکب ہو نے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ۔ سوائے معدودے چند پروفیسرصاحبان کے یہ طرز عمل عمومی طور ہائر ایجوکیشن سطح پر پایاجائے تو کیا کہئے؟ایک طرف میڈیا میں اُردو کے نام نہاد ریاکار عاشق اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیںاوردوسری جانب وہ اپنے بچوں کو انگلش میڈیم کے ذریعے ہی تعلیم دینا پسند کرتے ہیں ۔ایک اورالمیہ یہ ہے کہ یہاں کے چند غیر سرکاری تعلیمی ادارے ایسے بھی ہیں جہاں بچوں کو اُردو زبان و ادب سے ہر طریقے سے دور رکھا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ ان معصوم کلیوں کا بنیادی حق ہے کہ اُنہیں اپنے عظیم تخلیقی ورثے ، ثقافت ، دین ،تہذیب و تمدن اور سب سے بڑھ کر اپنی سرکاری زبان سے آشنا رکھا جائے بلکہ ان کو اپنے مذہبی ،سماجی ،تہذیبی اور سرکاری زبان میں مہارت ہونی چاہیے۔جدیدیت کے نام پر یا نام نہاد’’ ترقی وخوشحالی ‘‘کے نعرے سے قوم کے مستقبل کو اُردو زبان و ادب سے دانستہ طور محروم کر دیا جاتا ہے ۔ یہ صورت احوال یہاں کے بچوں کے ساتھ بدترین قسم کی حق تلفی ہے ۔ اتنا ہی نہیں چند ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جہاں اُساتذہ اور طلبہ پر اُردو اور کشمیری زبان میں بات کرنے پر بھی پابندی عائد ہے اور قاعدہ یہ بان یا گیا ہے کہ اگر کسی طالب علم کو اُردو یا کشمیری میں بات کرتے ہوئے پایا جائے تو اس پر جرمانہ پڑتا ہے ۔
ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ روز اُردو ورلڈ سرینگر(Urdu world srinagar) ٹیم کے ساتھ پیش آیا۔حسب معمول جب یہ ٹیم ماگام کے ایک پرائیوٹ اسکول پہنچا تو بچوں سے بات چیت کے دوران جب اُردو میں بات کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوںنے یہ کہتے ہوئے معذرت کی کہ ہمیں اُردو زبان میں بات کرنی نہیں آتی اور ساتھ ہی اساتذہ صاحبان نے کہا کہ اگر ہمیں اسکول انتظامیہ نے اُردو میں بات کرتے ہوئے دیکھاتو دو ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑتاہے ۔واحسراتا…!میری اس خامہ فرسائی کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم سے دور کھنا چاہے یا ہمیں وقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم وتدریس کے میدان میں نہیں چلنا چاہئے ، قطعاً نہیں میرا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو اُردو زبان و ادب سے آشنا ہو نے کے بنیادی حق سے محروم نہیں کرنا چاہے ۔
افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ جموں کشمیر میں تو اُردو زبان کے رہبر ہی رہزنی کا کام انجام دے رہے ہیں ۔ اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے نام پر جو نام نہاد تنظیمیں اور ا دارے وجود میں لائے گئے ہیں اُن کواگرہم اُردومافیا (urdu mafia)کا نام دیں تو میرے خیال میں بے جا نہ ہوگا۔ ایک کھلا راز یہ ہے کہ جو لوگ اُردو زبان و ادب کے فروغ و اشاعت کے لئے کوئی تنظیم یا ادارہ وجود میںلاچکے ہیں وہ آج تک اردو کے احیاء نو کے لئے کوئی قابل ذکر کام انجام نہیں دے پائے، سوائے یہ کہ انہیں سرکاری میڈیا میں تشہیر دی گئی اور سرکاری شخصیات کے مراسم پیدا ہوئے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ ادارے اور تنظیمیں اخلاص یعنی اُردودوستی کی بنیاد پر نوجوان نسل میں اردو کو فروغ دلانے کے اقدامات کر تے اور کرواتے، اُبھرتے ہوئے قلم کاروں ،شاعروں ،افسانہ نگاروں، زبان دانوں اور اردو طلبہ ومحققین کی حوصلہ افزائی کرتے، نئی نسل کواُردو زبان و ادب سے بے تکان اندا زمیں جوڑتے لیکن افسوس! کوئی ٹھوس کام کے برعکس انہوں نے ارود کو ہی استحصال کا تختہ ٔ مشق بنایا۔ اس زبان کو مزید چوٹیں ضربیں دینے میں انٹرنیٹ کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔انٹرنٹ کے موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ اُردو زبان کی بول چال کا معیار کافی حد تک گرا دیا گیا ہے، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔یہاںآج کل سوشل میڈیا جس میں فیس بک اور یوٹیوب ودیگر سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر بہت ساری نیوز چنلیں ہیں جن کے صحافی اوررپورٹرز اس زبان کا ستیاناس کر تے ہیں۔ ہم اور آپ نے یہ بھی دیکھا کہ اگر کسی صحافی یا رپورٹر سے انگریزی میں بات کرنے کے دوران کوئی چوک ہو جائے تو عوام اُسے معاف نہیں کرتے۔ اول تو ایسا صحافی؍ رپورٹر انگریزی میڈیا میں کام کر ہی نہیں سکتا جس کی زبان اچھی نہ ہو ۔ا س کے اُ لٹ میںاُردر میڈیا میں نیم حکیم صحافی بھی دو چار باتیں کر کے تیس مار خان بنتے پھرتے ہیں۔ اس اندوہ ناک صورت حا ل میں اُردو زبان کی بگڑتی حالت پر کتنا بھی روئے ، آنسو ہی فرش زمین کو میلے کریں گے ۔
جب ہم موجودہ دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ساری دنیا خصوصاً مغرب اسرائیل کی پالیسیوں اور پروگراموں کے تحت دُنیا پر اپنے نظریات اپنی چودھراہٹ ٹھونسنے کے ساتھ ساتھ اپنا تفوق جمانے میںکامیاب ہو رہا ہے، تبھی تو ڈیڑھ کروڑ یہودی آبادی پر مشتمل صیہونی ملک اسرائیل مسجد اقصیٰ پر اپنا ناجائز قبضہ جمائے بیٹھا ہے اور دنیا ئے اسلام کی 57؍آزاد مملکتیں اسرائیل کی جارہیت کو روکنے میں ناکام ونامراد ہورہی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں اپنی مادری زبان عبرانی(Hebrew) میں بچوں کو ابتدائی تعلیم دی جاتی ہے ۔یہ تلخ حقیقت ہمارے حکمران طبقے اور نام نہاد عاشقان ِاُردو زبان و ادب شایدسمجھ نہیں پا رہے ہیں ۔ان سارے تلخ حقائق کو پیش کرنے کی گستاخی کے بعد یہاں میں یہ عرض کر دوں کہ اگر ہمیں اپنی نسل ِنو کو تاریخ ،اسلام اور ادب اور دنیائے حقیقت سے مربوط رکھنا ہے ،تو اپنے سارے ذاتی مفادات کو بالائے تاک رکھ کر اس زبان کو اس زبوںحالی سے بچانے کے لئے کوئی کارآمد لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔ ارود کی زندگی ٔ نو کے لئے یہاں کے عوام الناس کو ،حکمرانوں کو اور لیڈروں کوچاہے کہ اُردو کے فروغ و اشاعت کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں جن میں سب سے پہلے ایک سرکاری اُردو اکادمی کا قیام عمل میں لایا جانا ضروری ہے۔ اُردو کو بہ حیثیت مضمون گریجویشن تک ہر ایک طالب علم کے لئے لازمی قرار دیا جائے، جن سرکاری محکموں میں روایتاً دفتری کام کاج اُردو میں کام کاج ہوتا تھا، ان کو اُردو میں ہی کام کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ۔ سرکاری عمارتوں کے ساتھ پرائیوٹ اداروں کو بھی یہ ہدایت جاری کی جانی چاہیے کہ اپنے سائین بورڈس اور بینرس وغیرہ انگریزی کے ساتھ ساتھ اُردو میں بھی تحریر کئے جائیں۔ اُردو کے فروغ و اشاعت کے نام پر جتنی بھی تنظیمیں اور ادارے وجود میں آئے ہیں اُن کو نیت خلوص کے ساتھ اس زبان کو نسل نو تک پہنچانے کی کوشش کرنی چائیے۔ جموںکشمیر کی سیاسی ،سماجی و مذہبی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس زبان کے فروغ وترویج کے لئے اپنی سطح پر اقدامات اُٹھائیں تا کہ اردو کے گنج ہائے علم سے نوجوان طبقہ بہرہ ور ہو کر سماج کی تعمیر میں اپنا کلیدی رول ادا کر سکیں اورسماج اس تہذیبی ولسانی جارحیت سے گلو خلاصی پائیں جس نے ہمارا سب کچھ پوٹ لیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر ہم سب پر یہ اخلاقی فرض ہے کہ ہم اُردو زبان کو عزت و عروج بخشنے میں اپنی تمام صلاحیتوں کو بروے کار لائیں تا کہ اردو دنیا کے ساتھ چل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔گر ہم ایسا کچھ نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب ہم ا س مصرع کے مصدا ق کرۂ ارض کے بوجھ بن کر رہ جائیں گے ۔۔۔۔۔ ع
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
ہماری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
رابطہ ۔[email protected]