حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی، ایک روزہ دار کی افطار کے وقت ،دوسرے عادل بادشاہ کی اور تیسرے مظلوم کی ۔‘‘
سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا ذکر فرمایا ۔ عذاب ان کے قریب تھا اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کی توفیق ہوئی اور ساری قوم اپنے گھروں سے باہر نکل آئی اور اللہ تعالیٰ سے رو رو کر اور گڑ گڑا کر توبہ کی تو اللہ نے ان پر سےعذاب ہٹا دیا ۔توبہ و استغفار ماہ مبارک کے مقاصد میں اہم ترین مقام رکھتا ہے ۔جس شخص کا توبہ قبول ہوگئی اور رب العزت نے اسے بخش دیا ، وہ رمضان کے فضائل و برکات سے مستفید ہو گیا ۔ روزہ عظیم فریضہ ہے جس کو رب العزت نے اپنی ذات اقدس سے منسوب فرمایا ہے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ میری اُمت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گیئں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہ ملی:
پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اللہ نظر رحمت فرمائے اُسے کبھی عذاب نہ دے گا۔ دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو ( جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے ) اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے ۔ تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن روزہ داروں کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں ۔ چوتھے یہ کہ اللہ تعالیٰ جنت کو حکم ارشاد فرماتا ہے’’ میرے نیک بندوں کے لئے مزیں ہوجا، عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے ۔‘‘ پانچویں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔ مبارک ماہ کی ان تمام فضیلتوں کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو اس مہینہ میں عبادت کا خاص اہتمام کرنا چاہئے اور کوئی لمحہ ضائع اور بے کار جانے نہیں دینا چاہئے ۔
اس مبارک مہینے کی قدر دانی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی فکر آخرت کے لئے اور جن کا محور مابعد الموت ہو ۔ بہرحال روزے کا مقصد تقویٰ شعارہے، اس تقویٰ کے حصول کے لئے اس آخری اُمت پر سال میں ایک مہینے کے روزے فرض کئے گئے اور روزے کا وقت طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب تک رکھا گیا ۔ پھر اس کے لئے مہینہ وہ مقرر کیا گیا جس میں قرآن مجید کا نزول ہوا اور جس میں بے حساب برکتوں اور رحمتوں والی رات (شب قدر ) اس مہینے میں دن کے روزوں کے علاوہ رات میں بھی ایک خاص عبادت کا عمومی اور اجتماعی نظام قائم کیا گیا جس کو تراویح کہا جاتا ہے۔اس خاص نماز سے مبارک مہینے کی نورانیت اور تاثیر وچاشنی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھے بحالت ایمان اور بہ امید ثواب واحتساب، تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئے جائیں گے اور جو شخص ماہ رمضان میں کھڑا ہو یعنی نوافل ( تراویح و تہجد وغیرہ ) پڑھے بحالت ایمان اور بہ اُمید ثواب اس کے بھی گزشتہ گناہ معاف کر دئے جائیں گے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت سے ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،رمضان المبارک کی قدر دانی کی توفیق بخشے اور اس با برکت مہینے کے اوقات کو صحیح طور پر صرف کرنے کی توفیق نصیب فرمائے ( آمین ثم آمین یا رب العالمین )۔