اذان کی مدھرآواز نہ صرف سننے میں پُر اثر اور رُرح پرور ہوتی ہے بلکہ اس کے ا ندر حیرانی کی ایک دنیا بھی بسی ہوئی ہے ۔عالم ِدُنیا کے نقشہ پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہو گا کہ انڈونیشیا دنیا کے مشرق کی جانب واقع ہے۔جاوا،سماٹرا جورنیوا ورسائبل انڈونیشیا کے بڑے شہر ہیں۔جونہی ہی سائبل کے مشرق کی جانب مقامی وقت کے مطابق تقریباّ ساڑھے پانچ بجے صبح صادق نمود ار ہوتی ہے ،یہاں اذان ِفجر کی ابتداء ہوتی ہے ۔انڈونیشیا کے بے شمار موذن اذان شروع کر دیتے ہیں ۔یہ سلسلہ مغربی انڈونیشیا کی جانب بڑھتا ہے ہے، سائبل میں اذان ختم ہونے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد یہ جکارتہ میں گونجتی ہے اور پھر سماٹرا میں ۔اس سے قبل کہ انڈونیشیامیںاذانوں کا یہ مقدس عمل اختتام پذیر ہو، ملائشیا میں اس کا سلسلہ شروع ہو چکا ہوتا ہے ۔اس کے بعد برما کی باری آتی ہے اور جکارتہ میں اس کی ابتداء ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اس کا وقت شروع ہو جاتا ہے ۔ بنگلہ دیش کے بعد صدائے ا ذان مغربی ہند میں کلکتہ سے سرینگر کو اپنی آغوش میں لے چکی ہو تی ہے ۔اس کے بعد اس کا دائرہ کار ممبئی کی جانب بڑھتا ہے اور ہندوستان کا پورا ماحول اس سے گونج اُٹھتا ہے ۔سرینگر اور سیالکوٹ ( شمالی پاکستان کاشہر، مولد علامہ اقبال ؒ) میں اذان کا ایک ہی وقت ہے۔سیالکوٹ کوئٹہ اور کراچی کے مابین اذانوں کے اوقات میں چالیس منٹ کا فرق رہتاہے اور اس دوران سارے پاکستان میں فجر کی اذان گونجتی ہے ۔اس سے پہلے کہ اس خطۂ ٔا رض میں ختم ہو، افغانستان اور مسقط میں اس کی ابتدا ہو چکی ہو تی ہے۔مسقط اور بغداد کے وقت میں ایک گھنٹے کا فرق ہے۔اس ایک گھنٹے کے دوران حجاز مقدس(مکہ اور مدینہ کے مقدس شہر)،یمن ‘متحدہ عرب امارات کویت اور عراق کی فضا اذانوں سے گونج اُٹھتی ہے۔ بغداد اور مصرمیں اسکندریہ کے وقت میں بھی ایک گھنٹے کا تفاوت ہے اور اس ایک گھنٹے کے دوران شام ،مصر،صومالیہ اور سوڈان میں مسلسل اذانیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔مشرق اور مغرب ترکی کے اوقات میں ڈیڑھ گھنٹے کا فرق ہے ، اس دوران نماز کا خدائی بلا وابدستور خطے میں بندگان ِ خدا کو آتا رہتا ہے۔اسکندریہ اور تریپولی(لیبیا کی راجدھانی) ایک گھنٹے کے فرق پر واقع ہیں۔ اس طرح سے اذان دینے کا جانفزا عمل سارے افریقہ میں جاری رہتا ہے ۔یوں تو حید اور رسالت کے اعلان کا جو سلسلہ انڈونیشیا میں شروع ہوا ہوتا ہے ، ساڑھے نو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے مشرق ساحل پر پہنچتا ہے۔بحرِاوقیانوس کے ساحل پر اذانِ فجر کا وقت ہونے سے پہلے ہی مشر قی ا نڈونیشیا میں ظہر کی اذان کی ابتدا ہو چکی ہوتی ہے ، اس سے پہلے کہ یہ ڈھاکہ پہنچے یہاں عصر کی اذان کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے ۔ڈیڑ ھ گھنٹہ بعد جب یہ بمشکل جکارتہ پہنچتی ہے تو انڈونیشیا میں مغرب کی اذان کا وقت ہو چکا ہوتا ہے ، اب جب کہ سماٹرا میں مغرب کا وقت شروع ہونے والا ہوتا ہے ،سائبل میں عشاء کی اذان کا وقت ہو چکا ہوتا ہے ۔جس وقت انڈونیشیا کے موذن فجر کی اذان دے رہے ہو تے ہیں ، اُس وقت افریقہ کے موذن عشاء کی اذان دے رہے ہوتے ہیں۔ بہرحال اگر ہم اس خدائی اہتمام پر غوروتفکر کریں تو ہم پر یہ حیرت انگیز حقیقت آشکار ہوگی کہ کرہ ٔ ارض پر ایسا کوئی بھی لمحہ نہیں گزرتا جب لاکھوں موذن دُنیا بھر میں اذانیں دینے میں مصروف نہ رہتے ہوں ۔ اس وقت جب آپ ان ٹوٹی پھوٹی سطور کا مطالعہ کر رہے ہیں ،آپ یقین مانئے کہ اس وقت بھی اِن گنت لوگ اذانیں پڑھ اور سن رہے ہیں۔
فون نمبر 9906111917