نئی دہلی//کانگریس نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نا م پر الیکشن لڑنے کے وزیر اعظم نریندر مویدی کے چیلنج کو بے تکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی میں مسٹر راجیو گاندھی کے رول پر اسے فخر ہے اور پارٹی ہمیشہ اپنے بڑے لیڈروں کے نام پر ہی الیکشن لڑتی ہے ۔ کانگریس ترجمان ابھیشک منو سنگھوی نے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹرمیں منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ کانگریس میں بڑے اور عظم رہنماوں کی طویل روایت ہے اور وہ سب پارٹی کی طاقت ہیں۔ کانگریس ملک کی ترقی میں ان کے رول کو نہیں بھولتی ہے اور ان کے نام پر ہی الیکشن لڑتی ہے اور لڑتی رہے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اپنے رہنما اٹل بہاری واجپئی کو صرف چند ہی برسوں میں بھول گئی اور اس کے پاس قومی ترقی میں اپنا رول ادا کرنے والے لیڈروں کی کوئی روایت نہیں ہے ۔ مسٹر مودی کو اندازہ ہوگیا ہے کہ ان کے جانے کا وقت قریب ہے اس لئے وہ گھبرائے ’ چھٹپٹائے اور بوکھلائے ہوئے ہیں۔ وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس الیکشن میں ان کی لہر نہیں بلکہ ان کی پالیسیوں کا قہر ہے ۔ اس لئے وہ پریشان او رمایوس ہوکر اپنی تقریروں میں صرف زہر اگل رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ مسٹر مودی پچھلے الیکشن میں جو وعدے عوام سے کئے تھے ان کو پورا نہیں کیا ہے اور وہ ہر محاذ پر ناکام رہے ہیں اس لئے مایوسی میں سابق وزیر اعظم کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ الیکشن کے دن جیسے جیسے گذر رہے ہیں ویسے ویسے مسٹر مودی کو اپنی شکست یقینی دکھائی دینے لگی ہے او روہ اپنا سیاسی توازن کھوکر الٹی سیدھی بیان بازی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وہ کانگریس کے جن لیڈروں کو گالی دے رہے ہیں وہ کانگریس کے ہی نہیں بلکہ ملک کے بھی بہترین لیڈر ہیں۔ مسٹر سنگھوی نے کہا کہ کانگریس کے تمام عظیم لیڈروں نے جدید ہندوستان کی بنیاد رکھی ہے اور ان کی پالیسیوں کی بنیاد پر ملک ترقی کی راہ پر چلا ہے ۔ اس لئے ہر الیکشن میں کانگرس ان کے رول کو یاد کرتی ہے اور انہیں کے نام پر لڑتی ہے ۔ بی جے پی نے تو مسٹر واجپئی کو ان کے انتقال سے نو سال پہلے ہی بھلادیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جس راجیو گاندھی کے بارے میں مسٹر مودی الٹی سیدھی باتیں کررہے ہیں ان کی وجہ سے ہی ملک میں ڈیجیٹل ٹیلی مواصلات انقلاب آیا اور ریلوے کی کمپیوٹر ائزیشن جیسے کام ہوئے ہیں۔ ان کے دور میں ملک میں آسام اور پنجاب جیسے امن کے اہم معاہدے ہوئے ۔ ان کی وجہ سے ہی ملک میں ووٹ ڈالنے کی عمر اٹھار ہ سال ہوئی جس سے کروڑوں نوجوان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ مسٹر مویدی کو سابق وزیر اعظم کے بارے میں اناپ شناپ بولنے سے پہلے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ انہوں نے اوپن اسکائی پالیسی نافذ کرکے شہری ہوابازی سیکٹر کو فروغ دیا اور اسی دوران مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح ریکارڈ10.2 فیصد تک پہنچی تھی۔ یہی نہیں اسی دورمیں اس ملک میں لائسنس راج کا خاتمہ ہوا اور پنچایتی راج نظام کو مستحکم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ مرحلوں کے الیکشن کے بعد اپنی یقینی شکست کو دیکھتے ہوئے مسٹر مودی اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے اب اگلے دو مرحلے کے الیکشن سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی نکتہ چینی کرکے لڑنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ان کے خلاف الٹے سیدھے تبصرے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاہم اس سے مسٹر مودی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کیوں کہ عوام کو حقیقت کا پورا علم ہے ۔یو این آئی