جموں// ضلع کے فلان منڈل علاقہ میں پولیس اور مقامی لوگوں کے درمیان جھگڑے میں پیر کے روز کئی نوجوان معمولی طور سے زخمی ہوئے ہیں جب ایک مقامی سرپنچ نے علاقہ میں جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے نشاندہی کی ایک مہم کے دوران پولیس کے ساتھ جھگڑہ کیا ۔جونہی جے ڈی اے کی ٹیم بھاری پولیس جمیعت کے ہمراہ جے ڈی اے کی زمین پر سائن بورڈ لگانے کیلئے زمین کی کھدائی شروع کی تو مقامی خاتون سرپنچ کی قیادت میں علاقہ کے لوگ جائے موقعہ پر اکٹھا ہوئے اور چیدہ مہم کے خلاف اعتراض کیا ۔خاتوں سرپنچ نے اس موقعہ پر کہا کہ پولیس با رسوخ زمین مافیہ کے خلاف کاروائی سے دور رہتی ہے جبکہ بے گناہ لوگوں کو پریشان کرتی ہے۔انہون نے کہا کہ ہم یہ اراضی گذشتہ 50 برسوں سے استعمال کر رہے ہیں۔اور پوچھا کہ تن تک جے ڈی اے اور پولیس کہاں تھی؟اب جب ہم نے اس اراضی پر اپنے ڈھانچے کھڑے کئے ہیں تو انہوں نے چن چن کر لوگوں کو شکار بنانا شروع کر دیا ہے۔انہوںنے کہا کہ جے ڈی اے سیاست دانوں پر کیوںکاروائی نہیں کرتی ہے جنھوں نے سینکڑوں کنال سرکاری اراضی پر قبضہ کیا ہے۔خاتون سرپنچ نے جے ڈی اے حکام کے ساتھ بحثو مباحثہ جاری رکھا جب پولیس نے اس کو وہاں سے دور کیا ۔ خاتون سرپنچ نے دعوی کیا کہ پولیس نے اسکے کپڑے پھاڑ ڈالے ،بعد ازاں ، بی جے پی کا سابقہ ایم ایل اے جائے موقعہ پر پہنچا اور ایس ی سائوتھ ونے کمارشرما اور متعلقہ ایس ڈی پی او سونیا آشکور وانی کے ساتھ تلخ خلامی کی ۔ ایس پی سائوتھ اور متعلقہ ایس ڈی پی او نے چودھری سے لوگوں کو اکسانے کیلئے خبر دار کیا لیکن اسنے لوگوں کی خاطر اپنی گرفتاری کی پیش کش کی۔بعد میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے چوھدری نے کہا کہا کہ یہ لوگ بیگناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور انہیں ڈاکٹر فروق عبدالہ اور دیگر بارسوخ افراد کے خلاف کاروائی کرنے کا چلینج دیا۔دوسری جانب جے ڈی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جے ڈی اے نے اپنے چھ گھنٹوں کی مہم کے دوران جے ڈی اے کی 387 کنال اراضی کو زمین مافیا کے چنگل سے بازیاب کیا اور اس پر جے ڈی اے کا سائن بورڈ بھی کھڑا کر دیا ۔