جموں //عالمی تمباکو نوشی مخالف دن کے موقعہ پر کے موضوع کا خلاصہ کرتے ہوئے ماہر امراض قلب ڈاکٹر سوشیل کمار نے تمباکو نوشی کے مضر اثرات کی جانکاری دیتے ہوئے بال نکیتن ،ودیا مندر امبپھلا، جموں میں ایک روزہ کیمپ کا اہتمام کیا۔کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تمباکو نوشی کے مضر اثرات سماج کے متعدد طبقوں میں یکساں ہوتے ہیں۔تاہم یہاں یہ بات ضروری ہو جاتی ہے کہ بعض طبقوں کا ذکر کرنا لازمی ہے ،جو تمباکو نوشی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ،خصوصاً جنسی، عمر اور مضافات میں۔انہوں نے کہا کہ اس مسلہ سے زیادہ تر بچے متاثر ہوجاتے ہیں،مائوں کی تمباکو نوشی یا بچے بذات خود اس کا استعمال کرنے سے اس بیماری میں مبتلا ہو اجاتے ہیں۔بچوں کو دوسروں کی تمباکو نوشی سے زیادہ نقصان ہوجاتا ہے، جس سے اُن میں استھما ،نمونیا، اور عام طور سے سانس لینے میں دقت پیدا ہو جاتی ہے۔ڈاکٹر سوشیل نے تبادلہ خیال کے دوران بتایا کہ 5 سال کی عمر سے کم تقریباً 60,000 بچے ہر سال دوسروں کی تمباکو نوشی کے انفیکشن سے لقمہ اجل ہوجاتے ہیں اور جو بالغ ہو جاتے ہیں ،انکو بھی دوسروں کی تمباکو نوشی سے صحت کی تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،جس سے بوڑھا پے میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی کی کمی سے دل اور پھیپھڑوں کو بہتر بنانے میںمدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے لوگوں کو باخبر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ، بچوں اور انکے اہل خانہ کے لئے باقاعدگی سے ایسے بیداری پروگرام منعقد کرنے کی اشد ضرورت ہے،تاکہ نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے دور رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ دل کے لئے تمباکو نوشی ترک کرنا سب سے واحد بہترین چیز ہے۔وید مندر امبپھلا کی منیجمنٹ کمیٹی کے صدر سدیش پال ،نائب صدر کے کے مینگی، پون بارو، امت شرما ۔الوک شرما اور امبپھلا کے کارپوریٹر سمیت شرما نے ڈاکٹر سوشیل اور انکی ٹیم کی ایسے بیداری کیمپ منعقد کرنے کی ستائش کی۔