سرینگر/پٹھانکوٹ کی ایک خصوصی عدالت نے سوموار کو کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس میں چھ ملزموں کو مجرم قرار دیدیا۔ مجرم قرار دئے گئے افرد میں رسانا گائوں کا مکھیہ سانجی رام،دو ایس پی او دیپک کھجوریہ اور سریندر ورما، ہیڈ کانسٹیبل تلک راج اور سب انسپکٹر آنند دتا شامل ہیں۔ اس کیس کے ساتویں ملزم کیخلاف الگ سے ٹرائیل چلایا جائے گا جبکہ آٹھویں ملزم کو عدالت نے بری قرار دیا ہے۔
آٹھ سالہ خانہ بدوش لڑکی کی عصمت دری اور قتل کیس کے واقعہ کی پٹھانکوٹ کی عدالت میں سماعت لگ بھگ ایک سال قبل شروع ہوئی تھی اور آج عدالت کی طرف سے اس معاملے کو لیکرفیصلہ سنا یا گیا۔
اطلاعات کے مطابق مجرموں کی سزا کے بارے میں عدالت کا فیصلہ دن کے دو بجے سامنے آئے گا۔
کیس کے 8 میں سے 7 ملزمان کا فیصلہ آج سنایا گیا جبکہ آٹھواں ملزم جو کہ نابالغ ہے، کے خلاف ٹرائیل عنقریب جوینائل کورٹ میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ اس کیس میں میں سپریم کورٹ کے احکامات پر 31 مئی 2018 کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں کیس کی ان کیمرہ اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی تھی۔
اس کیس کے ملزمان میں عصمت دری و قتل معاملہ کے منصوبہ ساز سانجی رام، اس کا بیٹا وشال جنگوترا، سانجی رام کا بھتیجا نا(بالغ) ، نابالغ ملزم کا دوست پرویش کمار عرف منو، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج اور آنند دتا شامل تھے۔
گذشتہ برس کے اوائل میں جب کٹھوعہ میں عصمت دری و قتل کا یہ دل ہلانے والا معاملہ پیش آیا تھا تو اس کیخلاف عوامی سطح پر شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔