این سی پی سٹوڈنس ونگ نے سکمز سرینگر میں ایڈورٹائز منٹ کے خلاف احتجاج کیا
جموں// نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے سکمز سرینگر میں ایم ایس سی نرسنگ کے لئے داخلہ کی تاریخ 08-06-2019کے خلاف احتجاج کیا ہے۔این سی پی سٹوڈنٹس ونگ نے ایڈورٹائزمینٹ پر حیرانگی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ اس سے لگ رہا ہے کہ جموں اور لداخ کے امیدواروں کے لئے یہ اشتہار ہی نہیں ہے اور اس طرح سے ریاست جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔اشتہار پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل ایگزیکٹو کونسل ممبر انجینئر ریشی کول کیلم نے اس سلسلہ میں سکمز سے وضاحت طلب کی ہے۔ پارٹی کی جانب سے اس سلسلہ میں جموں اور لداخ کے ساتھ کئے جارہے مبینہ امتیاز کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔انجینئر ریشی کیلم نے اس امتیاز خصوصاً طلاب کے ساتھ کئے جارہے مبینہ امتیاز کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔انہوں نے اشتہار میں مبینہ طور سے سرینگر کو ایک علحیدہ ریاست دکھانے کو جموں اور لداخ صوبہ کے لئے ایک مثبت اشارہ قرار دیا ،جس کے خلاف پارٹی نے احتجاج کیا ہے۔لداخ اور جموں خطہ کے طلاب نے گورنر سے اس تضاد کا سنگین نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔انجینئر ریشی کیلم اور این سی پی کی سٹوڈنٹ ونگ نے گورنر سے جموں و کشمیر بینک میں سابقہ سرکار اورچیرمین جے اینڈ کے بینک کی جانب سے کی گئی مبینہ بے ضابطگیوں اور چور دروازے سے ہوئی تعیناتیوں کا بھی سنجیدہ نرٹس لینے کی اپیل کی ہے،تاکہ ریاست کے امیدواروں کے ساتھ انصاف ہو جائے۔
اوم نگر کے باشندوں نے سابقہ ایم ایل اے و جے ایم سی کے خلاف احتجاج کیا
جموں // اوم نگر کے باشندوں نے یوا پینتھرز کے بینر تلے علاقہ میںگلیوں اور نالیوں کی خستہ حالی کے خلاف تالاب تلو ،جموں میںسابقہ ایم ایل اے اور جموں میونسپل کارپوریشن کیخلاف احتجاج کیا۔مظاہرین کی قیادت یواپینتھرز کے نائب صدر پرتاپ سنگھ جموال کی موجودگی میںپارٹی کے جموں ویسٹ کے نائب صدر کپل دیو مہرہ کر رہے تھے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پرتاپ سنگھ جموال نے مبینہ الزام لگایا کہ سابقہ ایم ایل اے اور کا رپوریٹر علقہ کی راہ ہی بھول گئے ہیںکیونکہ انہوں نے کبھی بھی علاقہ کا دورہ نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوچھ بھارت ابھیان مذاق بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اوم نگر ترقی کے لحاظ سے بہت ہی پسماندہ ہے اور سب سے گندہ علاقہ بن گیا ہے۔انہوں نے مبینہ لزام لگایا کہ شہر گذشتہ تین سال سے ترقی سے محروم ہوا ہے ۔انہوں نے جے ایم سی پر مبینہ الزام لگایا ہے کہ وہ علاقہ میںگلیوں کی حلار سدھارنے میں ناکام رہی ہے، جس سے مقامی لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جے اینڈ کے میں اسمبلی نشستوں کی حد بندی
این پی پی کا فوری طور سے حد بندی کرنے کیلئے زور دار احتجاجی مظاہرہ
جموں//جے کے این پی پی کے چیر مین ہریش دیو سنگھ کی قیادت میں پارٹی کی جانب سے ایک زور دار احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔مظاہرین جموں خطہ میں فوری طور سے اسمبلی نشستوں کی حد بندی کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔مظاہرین نے بی جے پی کی جانب سے مبینہ طور سے کشمیری لیڈروں کے دبائو میں اس میں لیت و لعل برتنے کے خلاف بی جے پی کا پتلا نذر آتش کیا۔اس موقعہ پر میڈٖیا سے خطاب کرتے ہوئے ہرش دیو سنگھ نے کہا کہ وقت آیا ہے کہ مرکزی سرکار علاقائی عدم توازن ہٹانے کے لئے مناسب اقدام کرے ۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی حلقوں کی حد بندی بی جے پی کے ایجنڈا کا ایک حصہ ہے ،جسے ترجیحی بنیادوں پر حالیہ پارلیمنٹ سیشن میںپاس کرنا مطلوب ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ویثن ڈاکیومنٹ میں بھی حد بندی کی یقین دہانی کی گئی ہے۔انہوں نے بی جے پی کو انتباہ کیا کہ اگر پارٹی اس وعدے سے مکر گئی تو اسکے خلاف جموں کی عوام کافی مضاہمت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کا کل رقبہ 15953 مربع کلو میٹر ہے اورا سکی 46 اسمبلی نشستیں ہیںجبکہ جموں کا کل رقبہ 2629 مربع کلو میٹر ہے لیکن اسکی فقط 37 نشستیں ہیں ،جو سراسر جموں خطہ کے ساتھ نا انصافی ہے۔انہوں نے جموں کے ساتھ امتیاز کو ختم کرنے کے لئے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی سرکار کو اس پر فوری طور سے فیصلہ لینے کو کہا بصورت دیگر پارٹی مخلوط سرکار کے خلاف جامع احتجاج شروع کرے گی۔مظاہرین سے راجیش پدگوترہ، پشپیندر سنگھ ، گگن پرتاپ ،کیپٹن انیل گوڑ، بھوشن سنگھ ، سریندر چوہان ، کھجور سنگھ ، ایڈوکیٹ سوہن سنگھ ،رام پال شرما ، جگدیش ڈوگرہ، رشپال سنگھ ، روہت سرما ،سندیپ شرما ،راکش ورما و دیگران نے بھی خطاب کیا۔
پردیش کانگریس نے
کٹھوعہ معاملہ میں عدلات کے فیصلہ کی ستائش کی
جموں //جموں و کشمیر پردیش کانگریس نے کٹھوعہ عصمت ریزی معاملہ میں عدلات کے فیصلہ کی سراہنا کی ہے۔پارٹی کے ترجمان رویندر شرما نے عدالت کے فیصلہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نے اپنا کام کیا ہے اور قصور واروں کو سزا دی گئی ہے۔پٹھانکوٹ کے خصوصی عدلات کے فیصلہ پر رد عمل کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس معاملہ میں تیزی سے فیصلہ آنے سے لوگوں کا اعتماد عدالت میں مزید مستحکم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصون بچی کے ساتھ اس گھناونے جرم سے ہر ایک ناسان کا دل دہل گیا تھا ۔تاہم انہوں نے ان لوگوں سے وضاحت طلب کی ،جو اس معاملہ کا سیاسی فاعدہ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔