نئی دہلی//راہل گاندھی کے کانگریس صدر کے عہدے سے استعفی دینے کے بعد پارٹی میں عہدے چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ اتوار کو پارٹی کے جنرل سکریٹری جیوتی رادتیہ سندھیا اور ممبئی کانگریس کے صدر ملند دیوڑا نے بھی استعفی دے دیا۔کانگریس کے نوجوان رہنما اور عام انتخابات سے ٹھیک پہلے مغربی اترپردیش کے انچارج جنرل سکریٹری کا عہدہ سنبھالنے والے مسٹر سندھیا نے ٹویٹر پر استعفیٰ کا اعلان کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اپنا استعفیٰ گاندھی کو ارسال کر دیا ہے جبکہ دیوڑا نے کہا کہ انہوں نے کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اور پارٹی کے ریاستی انچارج ملک ارجن کھڑگے کو استعفیٰ کی اطلاع بھیج دی ہے۔دیوڑا نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرکے کہا کہ انہوں نے کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال اور پارٹی کے ریاستی انچارج ملک ارجن کھڑگے کو اپنے استعفی کی اطلاع بھیج دی ہے ۔ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے مد نظر پارٹی کارکنوں کو متحد رکھنے اور انتخابات سے پہلے کسی طرح کا کوئی بحران پیدا نہ ہو ، اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے پارٹی کے کام کاج سنبھالنے کے لئے تین سینئر لیڈروں کا ایک پینل قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی ہے ۔سندھیا نے کہا،‘لوک سبھا الیکشن میں عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کانگریس کے جنرل سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے چکا ہوں۔ میں نے اپنا استعفیٰ راہل کو بھیج دیا ہے۔انہوں نے کانگریس کا جنرل سکریٹری کی ذمہ داری سونپ کر پارٹی کی خدمت کا موقع دینے کے لیے مسٹر گاندھی کا شکریہ ادا کیا اورکہا،‘مجھ پر بھروسہ کرکے یہ ذمہ داری سونپنے اور پارٹی کے لیے کام کرنے کا موقع دینے کے لیے گاندھی کا شکریہ ادا کرتا ہوں’۔ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیوسینا اتحاد کے علاوہ پرکاش امبیڈکر کی قیادت والی ونچت اگھاڑي بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔دیوڑا نے کہا کہ ریاست کی سیاست کے بجائے اب قومی سطح کی سیاست کرنا چاہتے ہیں ، اس لئے انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔انہوں نے گزشتہ ماہ 26جون کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد عہدے سے استعفیٰ دینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔یو این آئی