واشنگٹن// امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی فنڈنگ روکنے کے فیصلے کی تحقیقات شروع کر دی ہے ۔امریکہ کے خارجہ امور کی کانگریس کمیٹی کے صدر ایلیئٹ اینجل نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو ایک خط لکھ کر ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلہ کو سیاسی کرانتشار قرار دیا ہے اور ساتھ ہی وزارت خارجہ سے اس فیصلے کے سلسلے میں ضروری معلومات اور دستاویزات چار مئی تک کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔مسٹراینجل نے اپنے خط میں لکھا کہ عالمی وبا کووڈ -19 کے بحران کے درمیان صدر ٹرمپ کا ڈبلیو ایچ او کی فنڈنگ روکنے کا فیصلہ انتقام کی کارروائی جیسا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے ۔ٗانہوں نے کہا کہ اگرچہ ڈبلیو ایچ او کی کچھ غلطیاں رہی ہیں، لیکن اس تنظیم نے کووڈ -19کے حوالہ سے دنیا کے مختلف ممالک کی حکومتوں کے درمیان تال میل قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور بر وقت کووڈ -19 کے وبا کو عالمی وبا قراردیاتھا۔امریکی کانگریس کے سینئررکن نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار کم کرنے اور اس وبا کے اثرات کو کم کرنے کی سمت میں بہترین کوششیں کی ہیں۔کووڈ -19 کے انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے بجائے ڈبلیو ایچ او پر الزام لگا کر اس کی فنڈنگ روکنے سے موجودہ حالات اور خراب ہو جائیں گے ۔دراصل، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تقریبا دو ہفتے قبل ڈبلیو ایچ او کی فنڈنگ روکنے کا حکم د یا تھا۔مسٹر ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او پر کورونا وائرس (کووڈ -19) کے انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے میں ناکام رہنے اور اس سے متعلق صحیح معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے اس کی فنڈنگ روکنے کی ہدایت دی تھی۔ مسٹر ٹرمپ کے اس فیصلے کی مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس سمیت دنیا کی سرکردہ شخصیات نے تنقید کی تھی۔مسٹر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین میں کورونا وائرس کے آغاز کے ساتھ ہی ڈبلیو ایچ او اسے قابو میں کرنے میں ناکام رہا اور اس سے متعلق اصل صورت حال کو مسلسل چھپاتا رہا۔ قابل غور ہے کہ امریکہ ڈبلیو ایچ او کو سالانہ 40 سے 50 کروڑ ڈالر کی مالی امداد فراہم کرتا ہے ۔مسٹر ٹرمپ کا خیال ہے کہ اگر ڈبلیو ایچ او نے وقت پر طبی ماہرین کو چین میں بھیج کر اصل صورت حال کا اندازہ کیا ہوتا اور اس وبا کے سلسلے میں چین کی جانب سے شفافیت میں کمی پرعالمی برادری کو آگاہ کیا ہوتا تو اس کے انفیکشن کو روکا جا سکتا تھا۔ اس سے ہزاروں لوگوں کی زندگی بچائی جا سکتی تھی اورعالمی معیشت کو ہونے والے نقصان کو بھی بچا جا سکتا تھا۔یواین آئی